| نصاب الصرف |
کرتے ہوئے دونوں واو کو یاء سے، اور صاد کے ضمہ کو کسرہ سے بدلا ،تو عُصِیٌّ ہوگیا، پھر صاد کی مطابقت میں عین کو بھی کسرہ دے دیا تو عِصِیٌّ ہوگیا۔
صیغہ نمبر(۳۱): لَنَسْفَعاً
لَنَسْفَعَنْ بروزن لَنَفْعَلَنْ صیغہ جمع متکلم لام تاکید بانون تاکید خفیفہ ہے۔ بعض اوقات نون خفیفہ کو تنوین کی صورت میں بھی لکھتے ہیں، لہذا یہاں بھی یہی طریقہ اختیار کیا گیا۔
صیغہ نمبر(۳۲): نَبْغِ
اصل میں نَبْغِیْ ہے۔ جیسے: نَرْمِیْ، صیغہ جمع متکلم فعل مضارع معروف ناقص یائی بابضَرَبَ یَضْرِبُ۔
حالت وقف میں ناقص کے آخر سے حرف علت کو حذف کرنا جائز ہے اس لیے یہاں بھی یاء کو حذف کیا گیا۔
نوٹ:
محققین علم صرف نے لکھا ہے کہ اہل عرب جزم اور وقف کے بغیر بھی یَدْعُوْ کو یَدْعُ اور یَرْمِیْ کو یَرْمِ پڑھتے ہیں ۔
صیغہ نمبر(۳۳):غَوَاشٍ
غَاشِیَۃٌ کی جمع ہے، جَوَارٍ والے قاعدے پر عمل کیا یعنی غَوَاشِیٌ تھا ، یاء پر ضمہ ثقیل تھا اسے گرادیا۔ یاء اور نون تنوین دو ساکن جمع ہوگئے ،یاء کو گرادیا غَوَاشٍ ہوگیا۔