صیغہ جمع مذکر حاضر اثبات ماضی مجہول مضاعف از باب افتعال ہے۔ ہمزہ وصل درمیان میں آنے کی وجہ سے گر گیا ،نیز مَا کا الف اجتماع ساکنین کی وجہ سے گرگیا ،اور فاء کلمہ ضاد ہونے کی وجہ سے افتعال کی تاء طاء سے بدل گئی۔
صیغہ نمبر(۲۷):
فَمَسْطَاعُوْا (فَمَا اسْطَاعُوْا)
دراصل یہ اِسْتَطَاعُوْا تھا صیغہ جمع مذکرغائب نفی ماضی معروف اجوف واوی از باب استفعال ہے ، استفعال کی تاء کو حذف کیا ،ہمزہ وصل درمیان میں آگیا ،اورمَا کا الف اجتماع ساکنین کی وجہ سے گرگیا ،تو
فَمَسْطَاعُوْا (فَمَا اسْطَاعُوْا)
ہوگیا۔
صیغہ نمبر(۲۸): لَمْ تَسْطِعْ
اصل میں لَمْ تَسْتَطِعْ تھا تاء کو حذف کردیا، اس میں لَمْ یَسْتَقِمْ کی طرح تعلیل ہوئی ہے۔
صیغہ نمبر(۲۹):مُضِیًّا
ناقص واوی باب
ضَرَبَ یَضْرِبُ ( مَضٰی یَمْضِیْ)
کا مصدر ہے۔ اصل میں مُضُوْیًا تھا، مَرْمِیٌّ کے قاعدہ کے تحت اس کی تعلیل ہوئی مُضِیّ ٌہوگیا۔ اس میں فاء کلمہ کو کسرہ دے کر مِضِیٌّ پڑھنا بھی جائز ہے۔
صیغہ نمبر(۳۰): عِصِیَّھُمْ
عِصِیٌّ(عَصًا)کی جمع ہے اصل میں عُصُوْوٌ تھا دِلِیٌّ کا قاعدہ استعمال