Brailvi Books

نصاب الصرف
318 - 342
اِذْتَکَرَ تھا باب افتعال کا فاء کلمہ ذال ہونے کی وجہ سے تائے افتعال کو دال سے بدلا اور ذال کو بھی دال سے بدل کر ادغام کیاتواِدَّکَرَ ہوگیا۔ شروع میں واو آنے کی وجہ سے ہمزہ وصل گرگیا تو وَادَّکَرَ پڑھاگیا۔

صیغہ نمبر(۲۲): مُدَّکِرٌ 

    صیغہ واحد مذکر اسم فاعل از باب افتعال ہے۔ اصل میں مُذْتَکِرٌتھا ، ذال اور تاء دونوں کو دال سے بدلا، شروع میں میم اسم فاعل کی علامت ہے۔

صیغہ نمبر(۲۳): تَدَّعُوْنَ

    صیغہ جمع مذکر حاضر اثبات فعل مضارع معروف ناقص واوی از باب افتعال ہے۔ اصل میں تَدْتَعِیُوْنَ تھا؛تاء کو دال سے بدل کر ادغام کیا، پھر تَرْمُوْنَ کے قاعدہ کے تحت یاء حذف ہوگئی، تَدَّعُوْنَبن گیا۔
صیغہ نمبر(۲۴): مُزْدَجَرٌ
     باب افتعال کا مصدر میمی ہے۔ مُزْتَجَرٌ تھا۔ باب افتعال کا فاء کلمہ زاء ہونے کی وجہ سے اسے دال سے بدلا، نیز وزن کے اعتبار سے یہ اسم مفعول اور اسم ظرف کا صیغہ بھی ہو سکتاہے۔

صیغہ نمبر(۲۵):
فَمَنِضْطُرَّ (فَمَنْ اُضْطُرَّ)

    اُضْطُرَّ
صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت مجہول از باب افتعال ہے۔ ہمزہ وصل درمیان میں آنے کی وجہ سے گرگیا اور فَمَنْ کے نون ساکن کو کسرہ دیا کیونکہ جب ساکن کر حرکت دیناہوتو کسرہ دیتے ہیں۔
Flag Counter