اِذْتَکَرَ تھا باب افتعال کا فاء کلمہ ذال ہونے کی وجہ سے تائے افتعال کو دال سے بدلا اور ذال کو بھی دال سے بدل کر ادغام کیاتواِدَّکَرَ ہوگیا۔ شروع میں واو آنے کی وجہ سے ہمزہ وصل گرگیا تو وَادَّکَرَ پڑھاگیا۔
صیغہ نمبر(۲۲): مُدَّکِرٌ
صیغہ واحد مذکر اسم فاعل از باب افتعال ہے۔ اصل میں مُذْتَکِرٌتھا ، ذال اور تاء دونوں کو دال سے بدلا، شروع میں میم اسم فاعل کی علامت ہے۔
صیغہ نمبر(۲۳): تَدَّعُوْنَ
صیغہ جمع مذکر حاضر اثبات فعل مضارع معروف ناقص واوی از باب افتعال ہے۔ اصل میں تَدْتَعِیُوْنَ تھا؛تاء کو دال سے بدل کر ادغام کیا، پھر تَرْمُوْنَ کے قاعدہ کے تحت یاء حذف ہوگئی، تَدَّعُوْنَبن گیا۔