صیغہ نمبر(۱۷):اَشُدَّ
بَلَغَ اَشُدَّہ، میں یہ صیغہ شِدَّۃٌ کی جمع ہے یعنی قوت ۔جیسا کہ اَنْعُمٌ نِعْمَتٌ کی جمع ہے، تفسیر بیضاوی شریف میں اسی طرح ہے۔ قاموس (لغت کی ایک کتاب) میں اسے اَشَدُّ کی جمع بھی لکھا ہے اس کا معنی بھی قوت ہے ۔
صیغہ نمبر(۱۸): لَمْ یَکُ
اصل میں لَمْ یَکُنْ تھا اس قاعدہ کے تحت کہ فعل ناقص پر جوازم کے داخل ہونے سے نون گرانا جائز ہے نون کو گرادیا، قرآن پاک میں لَمْ اَکُ، لَمْ نَکُ اور اِنْ یَکُ بھی آیا ہے۔
صیغہ نمبر(۱۹): یَھِدِّیْ
صیغہ واحد مذکر غائب اثبات فعل مضارع معروف ناقص یائی از باب افتعال ہے ۔اصل میں یَھْتَدِیْ تھا۔ باب افتعال کا عین کلمہ حرف دال (د) ہونے کی وجہ سے تاء کو دال سے بد ل کر ادغام کیا ، اور فاء کلمہ (ہاء) کو کسرہ دیا اس طرح یَھِدِّیْ ہوگیا ۔یہاں فاء کلمہ پر فتحہ بھی جائز ہے یعنی: یَھَدِّیْ بھی پڑھ سکتے ہیں۔
صیغہ نمبر(۲۰): یَخِصِّمُوْنَ
صیغہ جمع مذکرغائب اثبات فعل مضارع معروف صحیح ازباب اِفْتِعَالٌ ہے۔ اصل میں یَخْتَصِمُوْنَ تھا۔ عین کلمہ کی جگہ حرف صاد واقع ہوا تو یَھِدِّیْ کی طرح یہاں بھی تعلیل ہوگی۔
صیغہ نمبر(۲۱):