اس کا معنی دشمنی رکھنا ہے ۔ یہ بھی ہو سکتاہے کہ یہ اس باب سے واحد مونث امر حاضر معروف ہو یعنی: قَالِیْنِیْ۔ آخر میں نون وقایہ اور یائے متکلم ہو۔ وقف کی حالت میں یائے متکلم کے گرنے اور نون وقایہ کے ساکن ہونے کی وجہ سے قَالِیْن پڑھیں گے۔
نوٹ:
اس قسم کے صیغوں میں اس وجہ سے اشکال ہوتاہے کہ یہ دوسری زبان میں کسی چیز کا نام ہو سکتاہے۔ جیسے: ''قالین ''ایک بچھونے کو کہتے ہیں۔
اسی طرح آسْمَانْ۔ آسمان کا نام بھی ہے لیکن عربی میں اَفْعَلَانِ صیغہ تثنیہ مذکر اسم تفضیل کے آخر کو بوجہ وقف ساکن کیا جائے تو یہی وزن بنتاہے ۔نیز یہ باب افعال سے ماضی معروف کا صیغہ تثنیہ مذکر غائب بھی ہو سکتاہے کہ آخر میں نون وقایۃ اوریائے متکلم ہو (اَفْعَلَانِیْ)یائے متکلم حذف ہوگئی اور وقف کی وجہ سے نون کا کسرہ گر گیاتواَفْعَلَانْ(آسمان) ہوگیا۔