Brailvi Books

نصاب الصرف
314 - 342
صیغہ نمبر(۹): وَیَتَّقْہِ 

    یہ صیغہ واحد مذکر غائب اثبات مضارع معروف لفیف مفروق از باب افتعال ہے۔ اصل میں  یَتَّقِیْ تھا۔ قرآن پاک کی آیت:
 (وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہ، وَیَخْشَ اللّٰہَ وَیَتَّقْہِ)(الآیۃ)
یہاں مَنْ کی وجہ سےیُطِیْعُ کے آخر میں جزم آگئی تولام کلمہ ساکن ہوگیا اور اس سے پہلے جو یاء تھی وہ اجتماع ساکنین کی وجہ سے گرگئی ،جبکہ یَخْشٰی سے الف اور یَتَّقِیْ سے یاء کرگئی۔ یَتَّقْہِ میں یاء کے گرنے کے بعد ضمیرِ مفعول کی وجہ سے فَعِلٌ کی صورت پیدا ہوگئی۔ مثلاً: تَقِہٌ لہذا قاف کو ساکن کردیا تو یَتَّقْہِ ہوگیا۔

صیغہ نمبر(۱۰): اَرْجِہْ 

    اَرْجِ صیغہ واحد مذکر امر حاضر معروف ناقص از باب اِفْعَالٌ ہے ۔اس کے بعد واحد مذکر غائب کی ضمیرِمفعول آنے کی وجہ سے اَرْجِہْ ہوگیا۔ قرآن پاک میں اس کے بعد وَاَخَاہ، کا لفظ ہے لہذا''جِہِ وَ''(فِعِلٌ)کی صورت پیدا ہوگئی جیسے:اِبِلٌ ہے؛ اہل عرب کا قاعدہ ہے کہ اس وزن میں بھی درمیان والے حرف کو ساکن کردیتے ہیں، لہذا ہاء کو ساکن کیا تو اَرْجِہْ وَاَخَاہ، ہوگیا۔

صیغہ نمبر(۱۱): عَصَوَّ (عَصَوْا وَ)

     عَصَوْا جمع مذکر غائب ماضی معروف ناقص واوی از باب نَصَرَ یَنْصُرُ سے (جیسے:رَمَوْا ہے)اس کے بعد واو عطف آگیا ۔ قرآن پاک میں
بِمَا عَصَوْا وَکَانُوْا یَعْتَدُوْنَ ۔
قاعدہ یہ ہے کہ واو غیر مدہ کا واو عطف میں ادغام کرتے ہیں، اس لیے
عَصَوا وَّکَانُوْا یَعْتَدُوْنَ
ہوگیا۔
Flag Counter