| نصاب الصرف |
ایک تاء گرادی گئی؛ کیونکہ دو تاء جمع ہونے کی وجہ سے ایک تاء کو گرادیتے ہیں۔
صیغہ نمبر(۷): لِتُکْمِلُوْا
صیغہ جمع مذکر حاضر فعل مضارع مثبت معروف صحیح از باب اِفْعَالٌ ہے۔ شروع میں لامِ کَیْ کے بعداَنْ مقدر ہے جس کی وجہ سے آخر سے نون اعرابی گرگیا ۔ یہ صیغہ اس لیے مشکل ہوجاتاہے کہ طالب علم سمجھتا ہے شاید یہ لام امر ہے اور لام امر حاضر کے صیغوں پر نہیں آتا حالانکہ یہ لام کَیْ ہے۔
صیغہ نمبر(۸):وَلْتَأْتِ (لِتَأْتِ)
صیغہ واحد مؤنث امر غائب معروف ناقص یائی از باب ضرب یضرب ہے۔ شروع میں واو آنے کی وجہ سے لام امر ساکن ہوگیا ۔وَلْتَأْتِ کو تَأْتِیْ مضارع سے بناتے ہیں، شروع میں لام امر لگانے کی وجہ سے آخر سے یاء گرگئی۔
قاعدہ:
واو کے بعد لام امر کو گرانا(ساکن کرنا) واجب ہے اور فاء کے بعد جائز۔ اس کی وجہ یہ ہے ؛کہ جہاں فعل کا وزن ہو چاہے اصلی ہو یا عارضی وہاں اہل عرب درمیان والے حرف کو ساکن کردیتے ہیں۔ جیسے: کَتِفٌ سےکَتْفٌ۔ چونکہ امر میں لام کے بعد حرف متحرک ہوتاہے اس لیے واو یا فاء کے داخل ہونے کی صورت میں فعل کا وزن پیدا ہوجاتاہے اس لیے لام کو ساکن کردیتے ہیں۔ واو کی صورت میں لام کو گرانا اس لیے واجب ہے کہ اس کا استعمال زیادہ ہے۔