Brailvi Books

نصاب الصرف
311 - 342
ہے، اس کے شروع میں بھی فاء ہے اور آخر میں نون وقایہ ہے جس کے بعد یائے متکلم تھی جسے گرادیاگیا۔

فائدہ:

     جن افعال کے آخر میں نون وقایہ اور یائے متکلم ہو وہاں یاء کو گرانے کے بعد جب وقف یا جزم کی حالت ہوتی ہے تو طالب علم حیران رہ جاتاہے کہ حالت جزم اور وقف کے باوجود نون اعرابی کیسے آگیا حالانکہ یہ نون وقایہ ہے۔ اسی طرح جب ہمزہ وصل گرتاہے توبعض اوقات صیغے کا سمجھنا مشکل ہو جاتاہے بالخصوص جب دوسرے کلمے کے ساتھ ملنے کی وجہ سے ہمزہ وصل گراہو۔ مثلاً:
 (یَا اَیَّتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ ارْجِعِیْ )(الایۃ)
اب یہاں تُرْجِعِیْ پڑھا جاتاہے پہلے کلمہ یعنی المطمئنۃ سے ملنے کی وجہ سے ارجعی (واحد مونث امر حاضر معروف) کا ہمزہ وصل گرگیا ،تاء اور راء کو ملاکر پڑھنے سے صیغہ سمجھ میں نہیں آتا۔
    (یَا اَیُّھَا النَّاسُ اعْبُدُوْا) (الآیۃ)
میں ''اُعْبُدُوْا'' جمع مذکر امر حاضر معروف ہے۔ لیکن سُعْبُدُوْا پڑھنے سے صیغے کو سمجھنا مشکل ہوگیا۔ اسی طرح :
اِذَا قِیْلَ ارْجِعُوْا
میں
لَرْجِعُوْا
اور
رَبِّ ارْجِعُوْنِ
میں بِرْجِعُوْنِ کے بارے میں تشویش ہوجاتی ہے کہ یہ کونسا صیغہ ہے حالانکہ یہ دونوں جمع مذکر امر حاضر کے صیغے ہیں۔

    ہمزہ وصلی والے ابواب کے شروع میں مَا اور لاَ آنے سے بھی صیغے کو سمجھنے میں پریشانی ہوجاتی ہے ۔ مثلا
مَجْتَنَبَ (مَااِجْتَنَبَ ) مَنْفَطَرَ (مَااِنْفَطَرَ) لَنْفَجَرَ (لَااِنْفَجَرَ) مَسْتُوْرِدَ (مَااُسْتُوْرِدَ )
یہ تمام ماضی کے صیغے ہیں، لیکن حرف نفی آنے
Flag Counter