فَتَّقُوْنِ (فَاتَّقُوْنِ)
دراصل یہ صیغہ اِتَّقُوْا جمع مذکر امر حاضر معروف باب افتعال لفیف مفروق ہے، اس کے شروع میں فاء آنے کی وجہ سے ہمزہ وصل گرگیا یعنی پڑھنے میں نہیں آئے گا ۔ آخر میں یائے متکلم تھی جسے گرادیا گیا فعل اور یائے متکلم کے درمیان نون وقایہ ہے؛ تاکہ فعل کے آخر کو کسرہ سے بچایا جائے ۔ یعنی یہ فَاتَّقُوْنِیْ تھا ۔ نون وقایہ کا کسرہ یائے محذوفہ پر دلالت کرتاہے۔ اِتَّقُوْاکو تَتَّقُوْنَ سے بنایا گیا ہے جس کا طریقہ معروف ہے ۔ تَتَّقُوْنَ اصل میں تَتَّقِیُوْنَ تھا قاف کو ساکن کرکے یاء کا ضمہ اسے دیا اور اجتماع ساکنین کی وجہ سے یاء کو گرادیا۔
صیغہ نمبر(۲):
فَرْھَبُوْنِ (فَارْھَبُوْنِ )
یہ بھی امر حاضر معروف جمع مذکر کا صیغہ ہے البتہ یہ باب فتح یفتح سے