لہذا یہ خلاف قیاس (شاذ)نہیں ہے۔
فا ئد ہ (۴):
باب افتعال کا فاء کلمہ اگریاء ہو تو اسے تاء سے بدلنا واجب ہوتاہے مگر اس کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ ہمزہ سے بدل کر نہ آئی ہو ۔اسی لیے اہل صرف نے اِتَّخَذَکو شاذقرار دیا؛ کیونکہ اس میں یاء کو تاء سے بدل دیاگیا ہے ،حالانکہ وہ ہمزہ سے بدلی ہوئی ہے ، اس کو شذوذ سے بچانے کے لیے صاحب علم الصیغہ کے استاد فرماتے ہیں کہ یہ شاذ نہیں ہے ؛ کیونکہ اِتَّخَذَمیں تاء اصلی ہے ، مجرد میں یہ تَخَذَ، یَتْخَذُ ہے ،اَخَذَ یَأْخُذُ نہیں ہے ، اور تَخَذَ کا اَخَذَ کے معنی میں ہونا تفسیر بیضاوی سے واضح ہے ؛لہذا اِتَّخَذَ اِتَّبَعَ کی طرح ہے جو تَبِعَ سے ماخوذ ہے اور اس کی تاء اصلی ہے۔