اور دال ہمزہ کی جگہ چلاگیا،اب بقاعدہ آمن اسے الف سے بدل دیاتو یہ آدُرٌ بر وزن اَعْفُلٌ ہوگیا۔
اسی طرح قَوْسٌ کی جمع قِسِیٌّ جو اصل میں قُوُوْسٌ ہے سین کو واو کی جگہ اور واو کو سین کی جگہ لے گئے قُسُوْوٌ ہوگیا، پھر قاعدہ نمبر ۱۵ کے تحت دِلیٌّ کی طرح قِسِیٌّ ہوگیا۔
اسی طرح شَیْءٌ کی جمع اَشْیَاءُ ہے جو اصل میں شَیْئَاءُ ہے ، لام کلمہ کو فاء کی جگہ ،فاء کو عین کی جگہ اور عین کو لام کلمہ کی جگہ لے گئے تو اَشْیَاءُ بن گیا، لہذا یہ فَعْلَاءُ کے وزن پر ہے نہ کہ اَفْعَالٌ کے وزن پر، اور اسی لیے یہ غیر منصرف بھی ہے ۔کہ اس کے آخرمیں الف ممدودہ ہے اور الف ممدودہ دو سببوں کے قائم مقام ہوتاہے۔
قلب مکانی کی پہچان:
صرفیین فرماتے ہیں :کہ کسی کلمہ میں قلب مکانی کاعلم اس جیسے: دوسرے اشتقاقی کلمات سے حاصل ہوتاہے ۔مثلاً: آدُرٌ میں عین کلمہ کو فاء کی جگہ لے گئے یہ بات دَارٌ(واحد) اَدْوُر ٌ(جمع)اور دُوَیْرَۃٌ (دارکی تصغیر)سے معلوم ہوئی۔اسی طرح قِسِیٌّ میں قلب مکانی کا علم قَوْسٌ اور تَقَوَّسَ سے حاصل ہواکہ قِسِیٌّ اصل میں قُوُوْسٌ ہے۔
یونہی اس بات سے بھی قلب مکانی کا پتہ چلتاہے کہ اگر قلب مکانی کو تسلیم نہ کیاجائے تو اسباب منع صرف کے بغیر اسم کاغیر منصرف ہونالاز م آتاہے ۔جیسے:اَشْیَاءُ کی مثال گذری۔
قلب کی پہچان کاایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اگر قلب کااعتبار نہ کریں تو شذوذ لازم آئے ۔جیسے : کُلْ، خُذْ، اور مُرْ میں۔
فا ئد ہ (۳):
جو نون فعل ناقص کے آخر میں واقع ہو اسے حرف جازم کے داخل ہونے پر