Brailvi Books

نصاب الصرف
307 - 342
سبق نمبر50



(۔۔۔۔۔۔الافادات النافعہ (اقتباس از علم الصیغہ)۔۔۔۔۔۔)
فا ئد ہ (۱):

    ہروہ صحیح کلمہ جو باب ''فتح'' سے آئے اس کا عین یا لام کلمہ حر ف حلقی ہونا چاہیے۔ لہذا
أَبَی یَأْبَی ، قَلَی یَقْلَی، عَضَّ یَعَضُّ اور بَقَی یَبْقَی
وغیرہ افعال اگرچہ باب ''فتح'' سے ہیں اور ان کاعین یالام کلمہ حرف حلقی بھی نہیں مگرپھر بھی یہ خلاف قیاس (شاذ)نہیں ہوں گے؛ اس لیے کہ یہ کلمات صحیح نہیں۔ان میں سے کوئی مہموز ہے، کوئی مضاعف ہے، کوئی معتل ہے۔

فا ئد ہ (۲):

    کُلْ، خُذْ، اورمُرْ جو اصل میں اُؤْکُلْ، اُؤْخُذْ اور اُؤْمُرْ تھے ان میں سے دوسرے ہمزہ کو خلاف قیاس نہیں گرایاگیا بلکہ اس کی صورت یہ ہے کہ ان میں قلب مکانی کیا گیا ہے: یعنی فاء کلمہ کو عین کلمہ کی جگہ اور عین کلمہ کو فاء کلمہ کی جگہ لے گئے اس طرح یہ اُکْؤُلْ، اُخْؤُذْاوراُمْؤُرْ ہوگئے ، پھر یَسَلُ کے قاعدے کے تحت ہمزہ کی حرکت ماقبل کو دے کر اسے حذف کردیا،اب ہمزہ وصلی کی ضرورت نہ رہی اسے بھی گرادیاتویہ کُلْ، خُذْ اورمُرْ ہوگئے۔ 

فائدہ مہمّہ:

    لغت عرب میں قلب مکانی بکثرت واقع ہوا ہے۔ فاء کلمہ کو عین کی جگہ عین کو فاء کی جگہ لے جاتے ہیں۔ جیسے: دَارٌ کی جمع اَدْؤُرٌ کو آدُرٌ پڑھتے ہیں یہ در اصل اَدْؤُرٌ ہے ، بقاعدہ وُجُوْہٌ واو کو ہمزہ سے بدلاتو اَدْؤُرٌ ہوگیا،پھر قلب مکانی کی وجہ سے ہمزہ دال کی جگہ
Flag Counter