Brailvi Books

نصاب الصرف
227 - 342
    (۸)۔۔۔۔۔۔ان میں سے کوئی لفیف کے عین کلمہ میں نہ ہوں ۔ جیسے:
طَوٰی، حَیِیَ۔
    (۹)۔۔۔۔۔۔یہ دونوں جس کلمے میں ہوں وہ ایسے کلمہ کاہم معنی نہ ہو جس میں تعلیل نہیں ہوتی ۔ جیسے:
اِجْتَوَرَ، اِعْتَوَرَ۔
    ان مثالوں میں
اِجْتَوَرَ، تَجَاوَرَ
کے معنی میں ہے یعنی دونوں کا ایک ہی معنی ہے (ایک دوسرے کے پڑوس میں رہنا )اور
اِعْتَوَرَ، تَعَاوَرَ
کے معنی میں ہے (باری باری لینا )اور تَجَاوَرَاورتَعَاوَرَ میں تعلیل نہیں ہوتی ؛کیونکہ ان دونوں میں واؤ متحرک کا ما قبل مفتوح نہیں بلکہ الف ساکن ہے ۔

    (۱۰)۔۔۔۔۔۔ان دونوں کے بعد مدہ زائدہ نہ ہو ۔ جیسے:
طَوِیْلٌ، غَیُوْرٌ، غَیَابَۃٌ۔
قا عد ہ (۲): 

    واؤ یایاء کا ماقبل حرف صحیح ساکن ہوتو ان کی حرکت ماقبل کو دینا واجب ہے ۔ جیسے:
یَقْوُلُ
سے
یَقُوْلُ
اور
یَبْیِعُ
سے
یَبِیْعُ۔
    اگر یہ حرکت فتحہ ہو تو واؤ یا یاء کو الف سے بدلنا بھی واجب ہے۔ جیسے:یُقْوَلُ سے یُقَالُ اوریُبْیَعُ سے یُبَاعُ، بشرطیکہ قاعدہ نمبر (۱)کی شرائط کے ساتھ ساتھ درج ذیل چھ 6 شرائط بھی اس میں پائی جائیں ۔

    (۱)۔۔۔۔۔۔واؤ اور یاء کے بعد حرف ساکن نہ ہو ۔لہذا مِقْوَالٌ۔میں یہ اصول جاری نہیں ہوگا۔

    (۲)۔۔۔۔۔۔واؤ اور یاء والا کلمہ اسم تفضیل نہ ہو ۔ جیسے:
اَقْوَلُ، اَبْیَعُ۔
(۳)۔۔۔۔۔۔وہ کلمہ فعل تعجب نہ ہو ۔ جیسے: مَا اَقْوَلَہٗ۔

    (۴)۔۔۔۔۔۔وہ کلمہ صفت مشبہ بروزن اَفْعَلُ نہ ہو ۔ جیسے: اَسْوَدُ۔

    (۵)۔۔۔۔۔۔وہ کلمہ ملحق نہ ہو ۔ جیسے: شَرْیَفَ، جَہْوَرَ۔

    (۶)۔۔۔۔۔۔وہ کلمہ اسم آلہ نہ ہو ۔ جیسے: مِقْوَلٌ۔
Flag Counter