(۱)۔۔۔۔۔۔ واؤ یا یاء کا ما قبل حرفِ مفتوح اُسی کلمہ میں ہو ۔لہذا سَیَقُوْلُ میں یاء کوالف سے نہیں بدلیں گے ؛کیونکہ اس کاما قبل حرف ِمفتوح (س)اسی کلمہ میں نہیں ہے۔
(۲)۔۔۔۔۔۔وہ دونوں(واؤ یا یاء)فاء کلمہ میں نہ ہوں ۔لہذا
میں واؤ اور یاء کو الف سے نہیں بدلا جائے گا۔
(۳)۔۔۔۔۔۔ ان دونوں کے بعد یاء مشدد یا نونِ تاکید نہ ہو ۔ جیسے:
فَعَلاَنٌ، فَعَلٰی،یافَعَلَۃٌ
کے وزن پر آنے والے کلمہ میں نہ ہوں ۔ جیسے:
حَیَوَانٌ، حَیَدٰی، حَوَکَۃٌ۔
(۵)۔۔۔۔۔۔ وہ دونوں ایسے کلمہ میں نہ ہو ں جس میں رنگ یا عیب کا معنی پایاجائے۔ جیسے:
(۶)۔۔۔۔۔۔ ان دونوں کے بعد تثنیہ یاجمع مؤنث سالم کا الف نہ ہو ۔ جیسے:
عَصَوَانِ، رَمَیَا، عَصَوَاتٌ۔
(۷)۔۔۔۔۔۔ ان دونوں کی حرکت عارضی نہ ہو۔ جیسے: لَوِاسْتَنْصَرَ ، اس میں واؤ کی حرکت عارضی ہے ۔