Brailvi Books

نصاب الصرف
204 - 342
قا عد ہ (۳):

    اگرابتداء کلمہ میں دومتحر ک واؤہوں تو پہلی واؤ کو ہمزہ سے تبدیل کرنا واجب ہے۔ جیسے :
وُوَیْصِلٌ(وَاصِلٌ
کی تصغیر)سے
اُوَیْصِلٌ
اور
وَوَاصِلُ(وَاصِلَۃٌ
کی جمع)سے
اَوَاصِلُ۔
قا عد ہ (۴):

     وہ (ی) ساکن غیر مدہ جس کاماقبل مضموم ہو اسے واؤ سے بدل دینا واجب ہے۔ (بشرطیکہ وہ باب اِفْتِعَالٌ کا فاء کلمہ نہ ہو، اور نہ مدغم ہو) جیسے:
یُیْقَظُ
سے
یُوْقَظُ
اور
مُیْسِرٌ
سے
مُوْسِرٌ۔
فائدہ:

    مُتَّسِرٌ اصل میں مُیْتَسِرٌ تھا(یاء ساکن ماقبل مضموم)مگر اس میں واوکویاء سے نہیں بدلاگیا ؛ اس لیے کہ وہ اِفْتِعَالٌ کا فاء کلمہ ہے اسی طرح مُیِّزَ میں یاء ساکن کو واو سے نہیں بدلاجاتا ؛ کیونکہ وہ مدغم ہے۔

قا عد ہ (۵):

    ابتداء کلمہ میں دو واؤ ہوں اور دوسری واؤساکن ہوتو پہلی کو ہمزہ سے بد ل دینا جائز ہے ۔ جیسے: وُوْرِیَ سے اُوْرِیَ۔

قا عد ہ (۶):

     وہ واؤ جوکلمہ کے شروع میں ہو اور مفتوح نہ ہو اسے بھی ہمزہ سے تبدیل کردینا جائز ہے ۔ جیسے :وِشَاحٌ سے اِشَاحٌ ، اور وُقِّتَتْسے اُقِّتَتْ۔

    اور مفتوح ہونے کی صورت میں اسے ہمزہ سے بدلناشاذہے۔جیسے: وَحَدَسے
Flag Counter