کے فاء کلمے میں آجائیں تو انہیں تاء سے بدل کرادغام کردیا جاتا ہے ۔(اس کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ واؤ یا یاء ہمزہ سے تبدیل شدہ نہ ہو )جیسے:
تنبیہ:
یہ قاعدہ باب اِفْتِعَالٌ میں وجوبی طور پر جبکہ تَفَعُّلٌ اور تَفَاعُلٌ میں جوازی طور پر جاری ہوگا ۔نیز باب تَفَعُّلٌ اور تَفَاعُلٌ میں پہلا حرف ساکن ہوجانے کی وجہ سے ابتداء میں ہمزہ وصلیہ کا اضافہ ہو جائے گا۔
قا عد ہ (۸):
مثال واوی کا مصدراگرفِعْلٌ کے وز ن پر ہوتو اس کے واؤ کو حذف کر کے عین کلمہ کو کسرہ دیتے ہیں ،اور واؤ محذوفہ کے عوض آخرمیں ''ۃ ''کااضافہ کر دیتے ہیں۔جیسے: وِعْدٌسے عِدَۃٌ ، وِزْنٌ سے زِنَۃٌ۔ ہاں اگر مصدرفَعَلٌ کے وزن پرہوتوعین کلمہ کو بعض اوقات فتحہ دیتے ہیں۔جیسے: وَسَعٌ سے سَعَۃٌ۔