قاعدہ (۴):
جب دو ہمزہ ایک ساتھ آجائیں اور ان میں سے پہلا ساکن ہو تو دوسرے ہمزہ کو (ی)سے بدلنا واجب ہے ۔ جیسے:
قاعدہ (۵):
ا گر دو ہمزہ اکھٹے آجائیں اوران میں سے کوئی بھی مکسور یا ساکن نہ ہو اور نہ ہی پہلا ہمزہ متکلم کا ہو تو دوسرے ہمزہ کو واؤ سے بدلنا واجب ہے ۔جیسے:
قاعدہ (۶):
اگر ہمزہ مَفَاعِلُ کے الف کے بعداور یاء سے پہلے واقع ہو تو اسے یاء مفتوحہ سے بدلتے ہیں۔جیسے:خَطَایَا اصل میں خَطَایِءُ تھا ؛ یاء الف جمع کے بعد اور ہمزہ سے ماقبل واقع ہوئی اسے ہمزہ سے بدلاتوخَطَاءِءُ ہوگیا ، دو ہمزہ جمع ہوگئے اور ان میں سے ایک مکسور تھا، لہذا دوسرے کو (ی)سے بدل دیاتو خَطَائِی ُہوگیا ،اب مذکورہ قاعدے کے مطابق ہمزہ کو (ی)مفتوحہ سے بدلا خَطَایَیُ ہواپھر دوسری (ی)کو الف سے بدلاتوخَطَایَا ہوگیا ۔
تنبیہ:
تھے ،قا عد ہ نمبر ۱ کے مطابق
ہونا چاہیے تھا ،لیکن کثرت استعمال کی وجہ سے دوسرے ہمزہ کو گرادیا ، پھر ہمزہ وصلیہ کی ضرورت نہ رہی ؛ لہذا اسے بھی گرا دیا تویہ