| نصاب الصرف |
مخصوص قاعدے کے تحت ہمزہ کے ثقل کو دور کرنا''تخفیف''کہلاتا ہے ۔
اگر کلمہ میں ایک ہمزہ ہو تو اس کی تخفیف جائز اور اگر د وہمزہ ہوں تو اس کی تخفیف واجب ہوتی ہے ۔''جوازی تخفیف کے قواعد''
قاعدہ (۱):
اگرہمزہ مفتوحہ سے پہلے ضمہ ہو تو ہمزہ کو واؤ سے اور کسرہ ہو تو یاء سے بدلنا جائز ہے ۔ جیسے: سُؤَالٌ سے سُوَالٌ اور مِئَرٌ سے مِیَرٌ۔
قاعدہ (۲):
ہمزہ متحرکہ ہو اور ا س کا ما قبل حرف صحیح ساکن ہو تو ہمزہ کی حرکت ما قبل کو دے کر اسے حذف کرناجائز ہے ۔ جیسے:یَسْئَلُ سے یَسَلُ اورقَدْ اَفْلَحَ سے قَدَ فْلَحَ۔
تنبیہ:
راٰی، یَرَی
اور
رؤیۃ
کے تمام افعال میں یہ قاعدہ وجوبی طورپر استعمال ہوتاہے۔ البتہ ان کے اسمائے مشتقہ جیسے :مَرْأًی(اسم ظرف ومصدر )، مِرْأٰ ۃٌ(اسم آلہ)،مَرْاِیٌّ(اسم مفعول) وغیرہ میں اس قاعدہ کااستعمال محض جوازی ہے وجوبی نہیں۔
قاعدہ (۳):
ہمزہ ساکنہ کواس کے ما قبل حرف کی حرکت کے مطابق حرف علت سے بدلنا