| نصاب الصرف |
قا عد ہ (۱):
کسی اسم میں دوسراحرف اگر مدہ زائدہ ہوتوجمع منتہی الجموع اور تصغیر بناتے وقت اسے واؤ مفتوحہ سے بدلنا واجب ہے ۔جیسے:ضَارِبَۃٌسے ضَوَارِبُ، ضُوَیْرِبَۃٌ، اورضِیْرَابٌ سے ضَوَارِیْبُ، ضُوَیْرِبَۃٌ اور طُوْمَارٌ سے طَوَامِیْرُ، طُوَیْمِرَۃٌ ۔
قا عد ہ (۲):
اگر اسم فاعل کی جمع فَعَلَۃٌ کے وز ن پر آئے اور اس کا لام کلمہ حرف علت ہو تو اسے الف سے بدل کر فاء کلمہ کو ضمہ دینا واجب ہے ۔جیسے: دَاعٍ کی جمع دُعَاۃٌ یہ اصل میں دَعَوَۃٌتھا، حرف علت کو الف سے بدل کر فاء کو ضمہ دیا تو دُعَاۃٌ ہوگیا۔
قا عد ہ (۳):
وہ اسماء جن کالام کلمہ محذوف ہو اور اس کے عوض کوئی دوسراحرف نہ لایاگیا ہو توتثنیہ بناتے ہوئے ان کالام کلمہ واپس آجاتا ہے جیسے:اَبٌ سے اَبَوَانِ اور اَخٌ سے اَخَوَانِ( اَبٌ اور اَخٌ اصل میں اَبَوٌ اور اَخَوٌتھے )لیکن فَمٌ اور یَدٌ میں حذف شدہ واو ء واپس نہیں آئے گی بلکہ ان کا تثنیہ فَمَانِ اور یَدَانِبنے گا۔
اور وہ اسماء جن میں محذوف(حرف) کے عوض کوئی دوسرا حرف لایاگیا ہو،ان کو اسی حالت پر رکھ کر تثنیہ بنایاجاتاہے ۔جیسے: سِنَۃٌ سے سِنَتَانِ، اِبْنٌ سے اِبْنَان ِاور اِسْمٌ سے اِسْمَانِ۔
قا عد ہ (۴):
یاء ساکن جب ضمہ کے بعدواقع ہوتوواؤ سے بدل جاتی ہے۔ جیسے:مُیْقِنٌ
سے