Brailvi Books

نصاب الصرف
116 - 342
سبق نمبر 23



(۔۔۔۔۔۔مصدر کا بیان۔۔۔۔۔۔)
مصدرکی تعریف:

    وہ اسم جس سے دوسرے کلمات بنیں اوروہ خود کسی سے نہ بناہو ۔جیسے ضَرْبٌ (مارنا)

    اس کی دو قسمیں ہیں :     (۱) قیاسی (۲) سماعی۔ 

(۱)۔۔۔۔۔۔قیاسی:

     وہ مصادر جن کا کوئی خاص وزن مقرر ہو ۔جیسے
اِکْرَامٌ، تَرْجَمَۃٌ
وغیرہ۔

تنبیہ:

    ثلاثی مجرد کے علاوہ تمام مصادر قیاسی ہیں ۔

(۲)۔۔۔۔۔۔سماعی:

    وہ مصادر جن کا کوئی خاص وزن مقرر نہ ہو ۔جیسے
مَنْقَبَۃٌ، مَمْلُکَۃٌ
وغیرہ۔

فائدہ:

    (۱)۔۔۔۔۔۔ثلاثی مجردافعال کے لیے اگرچہ کوئی خاص قاعدہ مقرر نہیں ہے کہ اس فعل کا مصدر اس وزن پر آتا ہے البتہ عموماً ایسا ہو تا ہے کہ :

    ( ا لف) جس فعل میں بیماری کا معنی پایا جاتا ہے اس کا مصدر فُعَالٌ کے وزن پر آتا ہے ۔ جیسےزُکَامٌ (زکام زدہ ہونا )

    (ب)جس فعل میں نقل و حرکت کا معنی پایا جاتاہے اس کا مصدر فَعِیْلٌ کے وزن
Flag Counter