| نصاب الصرف |
مصدرکی تعریف:
وہ اسم جس سے دوسرے کلمات بنیں اوروہ خود کسی سے نہ بناہو ۔جیسے ضَرْبٌ (مارنا)
اس کی دو قسمیں ہیں : (۱) قیاسی (۲) سماعی۔
(۱)۔۔۔۔۔۔قیاسی:
وہ مصادر جن کا کوئی خاص وزن مقرر ہو ۔جیسےاِکْرَامٌ، تَرْجَمَۃٌ
وغیرہ۔
تنبیہ:
ثلاثی مجرد کے علاوہ تمام مصادر قیاسی ہیں ۔
(۲)۔۔۔۔۔۔سماعی:
وہ مصادر جن کا کوئی خاص وزن مقرر نہ ہو ۔جیسےمَنْقَبَۃٌ، مَمْلُکَۃٌ
وغیرہ۔
فائدہ:
(۱)۔۔۔۔۔۔ثلاثی مجردافعال کے لیے اگرچہ کوئی خاص قاعدہ مقرر نہیں ہے کہ اس فعل کا مصدر اس وزن پر آتا ہے البتہ عموماً ایسا ہو تا ہے کہ :
( ا لف) جس فعل میں بیماری کا معنی پایا جاتا ہے اس کا مصدر فُعَالٌ کے وزن پر آتا ہے ۔ جیسےزُکَامٌ (زکام زدہ ہونا )
(ب)جس فعل میں نقل و حرکت کا معنی پایا جاتاہے اس کا مصدر فَعِیْلٌ کے وزن