پر آتا ہے ۔ جیسے ذَمِیْلٌ ( اونٹ کا نرم چال چلنا )
(۲)۔۔۔۔۔۔ ثلاثی مجرد سے فَعْلَۃٌ کا وزن ''مَرَّۃ''(کسی فعل کا ایک مرتبہ ہونا)کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے جَلْسَۃٌ (ایک مرتبہ بیٹھنا )
(۳)۔۔۔۔۔۔ فِعْلَۃٌ کا وزن نوع(فعل کی کوئی خاص قسم) بیان کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسے قِسْمَۃٌ (کوئی خاص قسم کی تقسیم کرنا )
(۴)۔۔۔۔۔۔ فُعْلَۃٌ کا وزن مقدار بیان کرنے کے لیے استعمال کیاجاتا ہے۔ جیسے لُقْمَۃٌ (کھانے کی تھوڑی سی مقدار کھانا )
مصدر میمی
(۵)۔۔۔۔۔۔باب مفاعلہ کے علاوہ جس مصدرکے شروع میں میم زائدہ ہو اسے ''مصدر میمی''کہتے ہیں ۔جیسے مَنْطِقٌ (بولنا)
اس کے تین اوزان ہیں:
(۱)۔۔۔۔۔۔ ثلاثی مجرد صحیح افعال کامصدر میمی مَفْعَل ٌکے وزن پرآتاہے۔ جیسے مَرْجَعٌ (لوٹنا)
(۲)۔۔۔۔۔۔ مثال واوی کا مصدر میمی مَفْعِلٌ کے وزن پر آتا ہے ۔ جیسے مَوْضِعٌ (رکھنا )
(۳)۔۔۔۔۔۔غیر ثلاثی افعال کامصدر میمی اسم مفعول کے وزن پرآتاہے ۔جیسے مُکْرَمٌ (عزت کرنا)
تنبیہ:
کبھی مصدر میمی کے آخر میں تاء مضمومہ کااضافہ کردیاجاتاہے۔جیسے مَحَبَّۃٌ (محبت کرنا)