نکال دیتاتھااور یہ اس کامعمول تھاکہ وہ ایسا کرتارہتاتھا۔''
الغرض دنیامیں جو گزرا،ان کے دلوں میں اس کی رنجش باقی رہے گی ، میں ان سے کہوں گا:''دنیاتو گزر گئی اور جو ہوناتھاہوگیا،اب انہیں معاف کردو اورمیں نے تمہارے پاس قدم رنجا فرماکرتمہیں عزت دی ہے لہذا تم بھی ان سے درگزر کرو۔
اس وقت اللہ عزوجل فرمائے گا:'' اے میرے محبوب!اے محمدصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ! آپ ان کے لئے مشقت نہ اٹھائیں ،میری عزت وجلال کی قسم ! میں والدین کی دلی رضامندی کے بغیران کی اولاد کو جہنم سے نہیں نکالوں گا۔''تومیں عرض کروں گا:''اے میرے رب عزوجل !ان کے والدین کو حکم دے کہ یہ میرے ساتھ چل کر اپنی اولاد کے عذاب کو دیکھیں امید ہے انہیں ان پر رحم آ جائے۔''اللہ عزوجل ان کومیرے ساتھ چلنے کاحکم فرمائے گاوہ جہنم کی طرف آئیں گے تو حضرت مالک علیہ السلام (یعنی داروغۂ جہنم)ان کے لئے جہنم کے دروازے کھول دیں گے ۔
جب وہ اپنی اولاد اور ان کے عذاب کو دیکھیں گے تو روناشروع کر دیں گے اور کہیں گے :''اللہ عزوجل کی قسم !ہمیں معلوم نہ تھا کہ انہیں اس قدرسخت عذاب ہورہا ہے۔'' والدین میں سے ہر ایک اپنی اولاد کے لئے چیخ وپکار کریگا اور جب ان کی اولاد اپنے ماں باپ کے رونے کی آواز کو سنے گی توان میں سے ہر کوئی اپنی ماں سے کہے گا: ''اے میری ماں ! آگ نے میرے جگر کو جلادیاہے اور عذاب نے مجھے ہلاک کر دیا ہے، اے میری ماں! تُو تو کبھی یہ برداشت نہیں کرتی تھی کہ میں دھوپ یااس کی تپش میں ایک گھڑی بھی بیٹھوں یامجھے کانٹاچبھ جائے ،اے میری ماں ! (آج )تو نے