کیسے میرے عذاب کوسن کر اس پر صبر کرلیا،کیاتومیری کھال اور ہڈیوں پر رحم نہیں کھائے گی؟'' اس وقت ان کے والدین روتے ہوئے عرض کریں گے : ''اے ہم سے محبت کرنے والے، اے سراپا حسن وخوبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم!آپ ان کی شفاعت فرمائیے ۔''
اللہ عزوجل ان کے والدین سے فرمائے گا:''چونکہ میں نے تمہاری ہی وجہ سے ان پر غضب کیالہذااب تمہاری ہی سفارش سے میں ان کو جہنم سے نکالوں گا۔''وہ عرض کریں گے :''اے ہمارے معبود ومالک عزوجل !ہماری اولاد کو جہنم سے نکال کر ہم پر اپنافضل واحسان فرما۔''
تواللہ عزوجل ان کے والدین سے فرمائے گا:''کیاتم دونوں اپنی اولاد سے راضی ہوگئے؟'' وہ عرض کریں گے:''جی ہاں ۔''اللہ عزوجل حکم فرمائے گا: ''جس کے والدین ا س کو نکالنے پر راضی ہیں اس کو جہنم سے نکال دو اور جن کایہ مطالبہ نہیں ان کی اولاد کو عذاب میں ہی رہنے دو یہاں تک کہ میں ان کے بارے میں جو چاہوں فیصلہ فرمادوں۔''
چنانچہ حضرت مالک( علیہ السلام) ان کو اس حال میں نکالیں گے کہ وہ جل کر کوئلہ ہوچکے ہوں گے تو ان پر نہرِ حیات کاپانی بہایاجائے گا،اس سے ان پر نیا گوشت، کھال اور بال اُگ آئیں گے پھر وہ جنت میں داخل ہوجائیں گے ۔''
(۷)۔۔۔۔۔۔سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب وسینہ ،با عثِ نُزولِ سکینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم كافرمانِ عظمت نشان ہے:''میں تمہیں نمازاور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی وصیت کرتا ہوں، بے شک اس سے عمر میں زیادتی ہوتی ہے ،اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے !کبھی ایساہوتاہے انسان کی زندگی تین سال رہ جاتی ہے اور وہ اپنے