کے نیچے سجدے میں گر کر ان کے حق میں شفاعت کروں گا۔(اس وقت ) اللہ عزوجل فرمائے گا:''اے محمد(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم)!اپنا سر اٹھالیجئے کیونکہ میں والدین کے نافرمانوں کو اس وقت تک جہنم سے نہیں نکالوں گاجب تک کہ ان کے والدین ان سے راضی نہ ہوجائیں ۔'' تو میں اپنی جگہ لوٹ آؤں گااور ان سے توجُّہ ہٹا لوں گامیں دوبارہ آکر اُن کی چیخ وپکار سنوں گا تو پھر عرش کے نیچے سجدہ کروں گا، اللہ عزوجل مجھ سے فرمائے گا:''اے محمد(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ) !اپناسر اٹھالیجئے ،اے میرے محبوب! آپ نے جب بھی مانگامیں نے عطاکیامگر والدین کے نافرمانوں کو جہنم سے نہیں نکالاجائے گاجب تک کہ ان کے والدین ان سے راضی نہ ہوجائیں ۔''
میں دوبارہ اپنی جگہ لوٹ جاؤں گااور وہ مجھے بھلا دئيے جائيں گے، میں ایک مرتبہ پھر اس طرف آؤں گاتو ان کاسخت گریہ اور روناسن کر اللہ عزوجل کی بارگاہ میں عرض کروں گا: ''اے اللہ عزوجل!( داروغۂ جہنم حضرت )مالک(علیہ السلام) کو حکم دے کہ وہ ان کے طبقے کادروازہ کھولیں تاکہ میں ان کاعذاب دیکھ سکوں کیونکہ میں ان کی بہت زیادہ چیخ وپکار سنتاہوں ۔'' تو اللہ عزوجل فرمائے گا:''میں مالک کو اس کاحکم دے چکا ہوں ۔''
(آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما تے ہیں:)میں اسی وقت (حضرت) مالک (علیہ السلام) کے پاس جاؤں گاتو وہ میرے لئے دروازہ کھول دیں گے میں دیکھوں گاکہ کچھ لوگ آگ کی شاخوں میں لٹکے ہوئے ہیں اور عذاب کے فرشتے ان کی پیٹھوں اور رانوں پر آگ کے کوڑے برسارہے ہیں اور ان کے پاؤں کے نیچے