(۳)۔۔۔۔۔۔تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِعظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانيت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم كا فرمان ہے:''جہنم میں والدین کے نافرمان اور شیطان کے درمیان صرف ایک درجہ کافرق ہوگا۔''
(۴)۔۔۔۔۔۔اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عبرت نشان ہے :''شب ِمعراج مجھے آسمان کی سیر کرائی گئی میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ آگ کی شاخوں پر لٹکے ہوئے ہیں ،میں نے اَ مینِ وحی حضرت جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا:''اے میرے بھائی جبرائیل !یہ کون لوگ ہیں؟'' انہوں نے عرض کی: ''یہ والدین کے نافرمان ہیں ۔''
(۵)۔۔۔۔۔۔حُسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبرصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم كافرمانِ عالیشان ہے:''جس نے اپنے والدین کو گالی دی اس کے سرپر جہنم میں اس قدر آگ کے انگارے برسیں گے جس قدر آسمان سے زمین پر بارش کے قطرے برستے ہیں۔''
ہم اللہ عزوجل کی ناراضگی ،جہنم کی آگ اوراس میں داخل کرنے والے ہر عمل سے اللہ عزوجل کی پناہ مانگتے ہیں۔
(۶)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم كا ارشاد ہے :''مجھے کوئی شے اس قدر غمگین نہ کرے گی جس قدر والدین کے نافرمانوں کا عذاب رنج وغم میں ڈالے گا(قیامت کے بعد) میں جنت میں ہوں گاکہ مار پیٹ کی وجہ سے والدین کے نافرمانوں کی چیخ وپکاراور ان کے رونے کی آواز سنوں گا ، میرے دل میں ان کے لئے شفقت بھر آئے گی تومیں عرش