والدین کی نافرمانی کی مذمت پراحادیث مبارکہ:
(۱)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج ومَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے : ''اگر کلام عرب میں لفظِ ''اُف''کے علاوہ کوئی اور ایسا لفظ ہوتا جس میں لفظ ''اُف''کی بجائے کم تکلیف کامعنی پایاجاتاتو اللہ عزوجل یہ نہ فرماتا:''فَلَاَ تَقُلْ لَّھُمَآاُفٍّ''(بلکہ وہی کم تکلیف والالفظ فرمایاجاتا)بے شک اللہ تبارک وتعالیٰ نے والدین کے ساتھ حسن ِسلوک کرنے کا تاکیدی حکم ارشاد فرمایا ہے ۔''
(۲)۔۔۔۔۔۔سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کافرمانِ عبرت نشان ہے : ''والدین کا نافرمان اگرچہ روزہ رکھے اور نماز پڑھے یہاں تک کہ وہ اس (نماز وروزہ)میں یکتاومنفرد ہو جائے اور ا س کاانتقا ل اس حال میں ہو کہ اس کے والدین اس پر ناراض ہوں تو وہ اللہ عزوجل سے اس حال میں ملے گاکہ اللہ عزوجل اس پر غضب فرمائے گا۔''