گا،اسے لے جاؤاو ر '' بِئْر بَرْھُوْت '' میں ڈال دو ۔''تو ملک الموت علیہ السلام نے مجھے اس کنوئیں میں ڈال دیااور آہ! اب مجھے عذاب دیاجارہاہے ۔''اے میرے بھائی ! تم میری بہن کے پاس جاکر اس سے (میرے لئے )معافی کی درخواست کرو اور اس عذاب سے میرے چھٹکارے کے لئے'' کچھ کرو ''ممکن ہے اللہ عزوجل مجھ پر رحم فرمائے کیونکہ اللہ عزوجل کے ہا ں قطع رحمی کے علاوہ میراکوئی اور گناہ نہیں۔''
وہ بزرگ فرماتے ہیں :''(پہلے میں )اس جگہ گیا(جہاں امانت مدفون تھی)اور اس کو کھودا، اس سے ایک تھیلی نکلی جس میں میری امانت موجود تھی وہ اسی حالت میں تھی جیسی میں نے اپنے ہاتھ سے باندھی تھی ۔'' چنانچہ اپنی امانت کو لے کر میں عجم کے شہر چلا گیاوہاں جاکر اس کی بہن کے متعلق لوگوں سے معلومات کی، بالآخر! جب میری اس سے ملاقات ہوئی تو میں نے اسے اول تاآخر ساراماجراکہہ سنایاتو وہ رونے لگی پھر میں نے اس کے بھائی کے چھٹکارے کے لئے اس سے کہاتو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں محتاجی کی شکایت کرنے لگی، میں نے کچھ دنیاوی مال اسے دے دیااور وہاں سے لوٹ آیا۔پس ہر مؤمن کو چاہے کہ صلۂ رحمی کو اختیار کرے۔''
(۲۲)۔۔۔۔۔۔نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے : ''میں نے جنت میں سونے ،موتی،یاقوت اور زبرجد کے محلات دیکھے جن کا باہر اندر سے اوراندرباہر سے دکھائی دیتاہے میں نے پوچھا:''اے میرے بھائی جبرائیل علیہ السلام! یہ محلات وٹھکانے کس کے لئے ہیں؟'' تو انہوں نے عرض کی: ''اس شخص کے لئے جو صلہ رحمی کرے،سلام کوعام کرے،نرمی سے گفتگو کرے ،یتیموں سے نرمی کرے اوررات