Brailvi Books

نیکیوں کی جزائیں اور گناہوں کی سزائیں
91 - 133
بادشاہ کاپہرے دار تھا اور حرام کھاتاتھا،ملک الموت علیہ السلام نے مجھے اس کنوئیں میں پھینک دیااور اب مجھے اس میں عذاب دیاجائے گا۔'' دوسرے نے کہا: ''مَیں عبد الملک بن مروان کی روح ہوں جو نافرمان اورظالم شخص تھااب مجھے اس کنوئیں میں عذاب دینے کے لئے لایاگیاہے۔'' جب میں نے ان دونوں کی چیخ وپکار سنی تو گھبراہٹ کی شدت سے میرے بدن کے رَونگٹے کھڑے ہوگئے پھر میں نے اس کنوئیں میں جھانک کرباآواز پکارا: ''اے فلاں''تو اس شخص کی آواز آئی :''لَبَّیْکَ'' (یعنی میں موجود ہوں )اور وہ اس حالت میں تھاکہ اسے عذاب دیتے ہوئے ماراپیٹا جارہا تھا، میں نے اس سے پوچھا: ''اے میرے بھائی ! وہ امانت کہاں ہے جو میں نے تیرے پاس رکھوائی تھی ؟'' اس نے جواب دیا:''وہ امانت فلاں جگہ فلاں زینے کے نیچے مدفون ہے ۔''پھر میں نے پوچھا:''اے میرے بھائی!کس گناہ کے سبب تجھے بدبختوں کے مقام پر لایاگیا؟''اس نے جواب دیا:''میری بہن کے سبب ،اس لئے کہ میری ایک غریب بہن مجھ سے کہیں دور سرزمینِ عجم پررہتی تھی، میں اس کی پرواہ کئے بغیر اللہ عزوجل کی عبادت میں مشغول ہوگیااور مکہ مکرمہ میں رہنے لگااوراس مدت میں نہ مجھے اس کی کوئی فکر ہوئی اور نہ میں نے اس کے بارے میں (کسی آنے والے سے) کچھ پوچھا،جب میں مرگیاتو اللہ عزوجل نے اسی بات پر میری پکڑ فرمائی اور (مجھ سے ) فرمایا:''تو اس کو کیسے بھول گیا؟اس کے پاس کپڑے نہیں تھے اور تو کپڑے پہنے ہوئے زندگی گزارتاتھا،وہ بھوکی رہتی اور تو سیر ہوکر کھاتا،وہ پیاسی رہتی اور تو سیر ہوکر پیتاتھا(پھراللہ عزوجل نے فرمایا) میری عزت وجلال کی قسم ! مَیں قطع رحمی کرنے والے پر رحم نہیں کروں