Brailvi Books

نیکیوں کی جزائیں اور گناہوں کی سزائیں
90 - 133
بن دینار علیہ رحمۃ ا لغفّارسے ہوئی تو آپ نے مجھ سے فرمایا:''اے میرے بھائی ! تمہیں کیاپریشانی ہے؟ ''میں نے سارا ماجراانہیں کہہ سنایا تو انہوں نے فرمایا: ''جمعہ کو آدھی رات کے وقت مَطَاف (یعنی طواف کی جگہ)میں کوئی نہ ہوتوتم رکن ومقام (یعنی رکن یمانی اورمقام ابراہیم) کے درمیان کھڑے ہوکرباآوازِ پکارنا،اے فلاں!تو اگر وہ واقعی اللہ عزوجل کامقبول وصالح بندہ ہواتو اس کی روح تجھ سے کلام کرے گی اس لئے کہ ارواحِ مومنین رکن ومقام کے درمیان جمع ہوتی ہیں ۔''وہ بزرگ فرماتے ہیں کہ''جب جمعہ کی رات آئی تو آدھی رات کے وقت میں نے رکن ومقام کے درمیان کھڑے ہوکربلند آواز سے پکارا،اے فلاں !لیکن کسی نے مجھ سے کوئی کلام نہ کیا،جب صبح ہوئی تو میں نے حضر ت سیدنا مالک بن دینار علیہ رحمۃ اللہ الغفار کو بتایاتو آپ نے یہ آیت پڑھی:
''اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ
 ترجمہ کنزالایمان :ہم اللہ کے مال ہیں اور ہم کو اُسی کی طرف پھرنا۔0(پ ۲ ،البقرۃ:۱۵۶)''اور فرمایا:''وہ عجمی شخص جہنمی تھالیکن تم ایساکرو کہ یمن چلے جاؤ،وہاں ایک کنواں ہے جس کانام ''بِئْرِ بَرْھُوْت''ہے اس کنوئیں میں عذاب دیئے جانے وا لو ں کی روحیں جمع ہوتی ہیں اوروہ کنواں جہنم کے منہ پر ہے۔ تم آدھی رات کے وقت کنوئیں کے کنارے کھڑے ہوکر یوں نداکرنا:''اے فلاں کی روح!تو اس کی روح تجھ سے کلام کرے گی۔'' چنانچہ(یمن پہنچنے کے بعد ) میں اس کنوئیں کے قریب جاکر بیٹھ گیا،آدھی رات کے وقت میں نے دیکھاکہ دو شخصوں کو لاکر اس کنوئیں میں اتاراگیا،دونوں رورہے تھے ایک نے دوسرے سے پوچھا:''تو کون ہے ؟''دوسرے نے جواب دیا:''میں ایک ظالم شخص کی روح ہوں جو دنیا میں
Flag Counter