| نیکیوں کی جزائیں اور گناہوں کی سزائیں |
(۲۱)۔۔۔۔۔۔حضور نبئ پاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاك صلي اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کافرمانِ عالیشان ہے:''صلہ رحمی رزق کو بڑھاتی اور عمر میں زیادتی کرتی ہے ، صلہ رحمی عرش سے لٹکی ہوئی اللہ عزوجل کی بارگاہ میں التجاکرتی ہے :''اے اللہ عزوجل! تُو اسے ملاجو مجھے ملائے اور تُو اسے کاٹ جو مجھے کاٹے ۔''تو اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتاہے :''میری عزت وجلال کی قسم ! مَیں ضرور اس کو ملاؤں گاجو تجھے ملائے گااور ضرور اسے قطع کر وں گاجو تجھے قطع کریگا۔''
ایک عبرت ناک واقعہ
ایک بزرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کابیان ہے :''ایک نیک وصالح عجمی شخص میرا دوست تھااور وہ مکہ مکرمہ کے پاس رہاکرتاتھا،ساری ساری رات بَیْتُ اللہ(یعنی خانہ کعبہ) کاطواف کرتارہتااور ہمیشہ قرآنِ پاک کی تلاوت کیاکرتا۔عرصۂ دراز تک اس کا یہی معمول رہا،میں نے اُسے کچھ سونابطورِامانت دیااورخودیمن چلاگیاجب میں واپس لوٹاتو وہ مرچکاتھا میں نے اس کی اولاد سے اپنی امانت کے متعلق دریافت کیاتو انہوں نے جواب دیا:''اللہ عزوجل کی قسم!تم جو کہتے ہو ہمیں اس کی کچھ خبر نہیں اور نہ ہمیں اس امانت کا علم ہے ۔''مجھے بے حد دُکھ ہوا ،خیر! میری ملاقات حضرت سیدنا مالک