میں) اپنے گھر والوں سے لاعلم رہاتھا۔''
(۲۰)۔۔۔۔۔۔مروی ہے کہ مرد سے تعلق رکھنے والوں میں پہلے اس کی زوجہ اور اس کی اولاد ہے، یہ سب (یعنی بیوی ،بچے قیامت میں )اللہ عزوجل کے سامنے کھڑے ہوکر عرض کریں گے : ''اے ہمارے رب عزوجل!ہمیں اس شخص سے ہمارا حق لے کر دے، کیونکہ اس نے کبھی ہمیں دینی اُمور کی تعلیم نہیں دی اور یہ ہميں حرام کھلاتاتھاجس کا ہمیں علم نہ تھا پھر اس شخص کو حرام کمانے پر اس قدر ماراجائے گاکہ اس کا گوشت جھڑجائے گاپھر اس کو میزان کے پاس لایاجائے گا، فرشتے پہاڑ کے برابر اس کی نیکیاں لائیں گے تو اس کے عیال میں سے ایک شخص آگے بڑھ کر کہے گا:''میری نیکیاں کم ہیں ۔''تو وہ اس کی نیکیوں میں سے لے لے گا،پھردوسراآکر کہے گا: ''تُونے مجھے سود کھلایا تھا۔'' اور اس کی نیکیوں میں سے لے لے گااس طرح اس کے گھر والے اس کی سب نیکیاں لے جائیں گے اور وہ اپنے اہل وعیال کی طرف حسرت ویاس سے دیکھ کر کہے گا: ''اب میری گردن پر وہ گناہ و مظالم رہ گئے جو مَیں نے تمہارے لئے کئے تھے۔''
(اس وقت )فرشتے کہیں گے :''یہ وہ (بد نصیب)شخص ہے جس کی نیکیاں اس کے گھر والے لے گئے اور یہ ان کی وجہ سے جہنم میں چلاگیا۔''
پس مرد پرواجب ہے کہ وہ حرام سے بچے اور اپنے گھروالوں سے حسنِ سلوک کے ساتھ پیش آئے ۔