(۱۶)۔۔۔۔۔۔حُسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبرصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کافرمانِ عالیشان ہے:''مرد پر لازم ہے کہ وہ اپنی بیویوں اور لونڈیوں کو وضو،اس کی نیت ،تَیمم ،حیض ونفاس اور جنابت سے غسل ،اِستحاضہ کے احکام اور وضو ونماز کے فرائض وسنن کی تعلیم دے اور(خصوصاً)عقائدِ ا ہلسنت (کی تعلیم)، غیبت،چغلی اور نجاست سے بچنے ،فضول گوئی سے خاموشی، ذکر وآداب بجالانے پر استقامت اور گناہ اوربرائی سے اجتناب کی تعلیم دے اور اگر اپنی کم علمی کی وجہ سے ان کو سکھانے سے قاصر ہے تو (کسی اور سے )پوچھ کر بتائے ،ورنہ ان کو رخصت دے کہ وہ مسائل واحکام کے متعلق کسی اور(محرم) سے پوچھیں اور مرد کواپنی عورتوں کو ایسی جگہ جانے سے منع نہيں کرنا چاہے جہاں وہ اللہ ورسول عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی باتیں سن کر اپنے دین کے احکام کو جان سکيں اور جہنم میں جانے سے بچ جائيں۔'' ۱ ؎
(۱۷)۔۔۔۔۔۔اسی وجہ سے شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:''علم حاصل کرناہر مسلمان مرد وعورت پر فرض ہے۔''یعنی علم سے مراد دین کے فرض عُلوم ہيں۔