Brailvi Books

نیکیوں کی جزائیں اور گناہوں کی سزائیں
85 - 133
اس وقت تک اس کی نمازقبول ہوتی ہے نہ کوئی نیکی جب تک کہ وہ اپنے شوہر کو راضی کرکے اس کے ساتھ اچھی زندگی نہ گزارے۔ یقیناً قیامت کے دن اللہ عزوجل تم سب سے ایک دوسرے کے متعلق پُرسش فرمائے گا۔''

(۱۴)۔۔۔۔۔۔ تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِعظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانیت عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کافرمانِ عالیشان ہے: ''مرد پر واجب ہے کہ وہ اپنی زوجہ کونماز پڑھنے کاحکم دے اور اس کے ترک پر سرزنش کرے۔''

(۱۵)۔۔۔۔۔۔اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم كافرمانِ ذیشان ہے:''عورتوں کے معاملے میں اللہ عزوجل سے ڈرو کیونکہ وہ تمہارے پاس قید یوں کی صورت میں ہیں، تم نے ان کو اللہ عزوجل کے عہد وپیمان پر لیا ہے اور اللہ عزوجل کے کلمہ (یعنی حکم )کے ذریعے ان کی شرم گاہیں تم پرحلال ہوئیں تم ان کے لباس اورنفقہ(یعنی خرچ اورکھانا وغیرہ )میں وسعت رکھو،اللہ عزوجل تمہارے رزق میں وسعت فرمائے گااور تمہاری عمر میں برکت عطا فرمائے گااور (یاد رکھو)تم جیسا کرو گے اللہ عزوجل بھی ویساہی بدلہ تمہیں دے گا۔''
ٹیڑھی پسلی
    منقول ہے کہ حضرت سیدناابراہیم خلیل اللہ علی نبیناو علیہ الصلوٰۃ و السلام نے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں حضرت سیدتناسارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے خُلق کی شکایت کی ،اللہ عزوجل نے ان کی طرف وحی فرمائی :''مَیں نے عورت کو ٹیڑھی پسلی سے پیداکیاہے اور وہ یوں کہ عورت یعنی حوا (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کو (حضرت) آدم (علیہ السلام) کی ٹیڑھی بائیں
Flag Counter