(۷)۔۔۔۔۔۔نبی کریم،رء ُوف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کافرمانِ عالیشان ہے:''زکوٰۃ کے بعد افضل صدقہ وہ درہم ہے جو اپنی جان پر خرچ کرے تاکہ لوگوں کے سامنے سوال کرنے سے بچے اور وہ درہم ہے جو توُاپنے بچوں ،غلاموں اورباندیوں پر خرچ کرے تاکہ وہ لوگوں کے محتاج نہ ہوں تو اللہ عزوجل اِس کااَجر سَتّر (70) گنا بڑھاکر لکھے گا۔''
(۸)۔۔۔۔۔۔حضور نبئ پاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاك صلي اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے:''جس نے حلال روزی کی طلب میں تھکاوٹ کی حالت میں شام کی تاکہ وہ خودکو لوگوں سے سوال کرنے سے بچائے تووہ شام ہی کو بخش دیاجائے گا۔''
(۹)۔۔۔۔۔۔نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ ذیشان ہے:''اگرکوئی کسی کاکفیل (یعنی پرورش کرنے والا)ہے تو اس کو چاہے کہ وہ اس کے ساتھ حسنِ سلوک کرے ۔''ایک شخص نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم !میری نہ اولاد ہے نہ بیوی اور نہ ہی خاندان ،صرف ایک مرغی ہے۔''آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :''اگر توُنے اس کے دانہ پانی میں ایک دن بھی کوتاہی کی تو اللہ تبارک وتعالیٰ تجھے حسنِ سلوک کرنے والوں میں نہ لکھے گا۔''
(۱۰)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کافرمانِ عالیشان ہے: ''تم پر یہ لازم ہے کہ اپنی عورتوں پر نرمی ومہر بانی کرو ،نہ ان پر ظلم کرو اور نہ ان پر تنگی کرو اس لئے کہ جب عورت پر ظلم کیاجائے تو اللہ عزوجل ایسا ہی ناراض ہوتاہے جیساکہ یتیم کی وجہ سے ناراض ہوتاہے ۔''