Brailvi Books

نیکیوں کی جزائیں اور گناہوں کی سزائیں
82 - 133
اَنَّہٗ مَنۡ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیۡرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الۡاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیۡعًا ؕ وَمَنْ اَحْیَاہَا فَکَاَنَّمَاۤ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیۡعًا ؕ
ترجمہ کنزالایمان:کہ جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یازمین میں فساد کئے تو گویااس نے سب لوگوں کو قتل کیااور جس نے ایک جان کو جِلا لیا اس نے گویاسب لوگوں کو جِلالیا۔ (پ6،المائدۃ: 32)

    یعنی اگرایک ہزار افراد ایک قتل میں شریک ہوجائیں توان میں سے ہرایک قتل کے جرم میں برابر کا شریک ہے اور سب پر تمام لوگوں کے قتل کا گناہ ہوگااور جس نے کسی جان کومجبوری کی حالت میں روٹی کاایک ٹکڑایالقمہ کھلاکر یاپیاس کے وقت ایک گھونٹ پانی پلاکر یااپنے مسلمان بھائی کی مصیبت دور کر کے اس پر احسان کیاتوگویا اس نے تمام لوگوں کو زندہ کردیااور اللہ عزوجل کی تمام مخلوق پر احسان کیا۔''
حُسنِ مُعاشرت
 (۵)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم كافرمانِ عالیشان ہے: ''تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی عورتوں،بچوں ، غلاموں اورلونڈیوں سے اچھاسلوک کرتاہے ۔''

(۶)۔۔۔۔۔۔ سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب و سینہ ،با عثِ نُزولِ سکینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کافرمانِ ذیشان ہے:''اپنی عورتوں،اَولاد اور جوبھی اس کی پرورش میں ہے ، ان سے حسنِ سلوک کرنے والے کو راہِ خدا عزوجل میں جہاد کرنے والے کادرجہ عطاکیاجا ئے گا۔''
Flag Counter