Brailvi Books

نیکیوں کی جزائیں اور گناہوں کی سزائیں
81 - 133
    اورجب کسی عورت نے جان بوجھ کر اپنے بچے کو ساقط کیااورپھراپنے گناہ کااعتراف کرتے ہوئے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں عاجزی و انکساری سے گِڑ گڑا کر توبہ کی تو اللہ عزوجل اس کی تو بہ قبول فرمالیتاہے کیونکہ غفور ورحیم رب عزوجل کافرمانِ مغفرت نشان ہے :
وَھُوَالَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَعَنْ عِبَادِہٖ
ترجمہ کنزالایمان:اوروہ ہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے۔(پ 25،الشوریٰ :25)

    اور جَنِیْن۱؎ (یعنی پیٹ کابچہ )ضائع کرنے کی دِیت (یعنی خون بہا ) اگر صورت بن چکی ہو توچھ سو(600) درہم اس کے ورثا ء یعنی باپ اور بھائیوں کے لئے ہوگی تو قتل کرنے والوں سے دیت کا مطالبہ کیا جا ئے گا یا اللہ عزوجل کے لئے ایک مؤمن غلام آزاد کیا جا ئے گا ۔''

(۷)اور اللہ عزوجل ارشاد فرماتاہے :
فَمَنۡ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَہۡرَیۡنِ مُتَتَابِعَیۡنِ ۫ تَوْبَۃً مِّنَ اللہِ ؕ وَکَانَ اللہُ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿92﴾
ترجمہ کنزالایمان:تو جس کاہاتھ نہ پہنچے تو وہ لگاتار دو مہینے کے روزے رکھے یہ اللہ کے یہاں اس کی توبہ ہے اوراللہ جاننے والاحکمت والاہے ۔( پ 5،النساء:92)

(۸)اورارشاد فرماتاہے :
۱؎ :''بہارشریعت ''میں جنین کی دیت کے بارے میں ہے:''کسی نے کسی حاملہ عورت کو ایسا مارا یا ڈرایا یا دھمکایا یا کو ئی ایسا فعل کیا جس کی وجہ سے ایسا مرا ہو ابچہ سا قط ہوا جو آزاد تھا ۔اگر چہ اس کے اعضاء کی خلقت مکمل نہیں ہو ئی تھی بلکہ صرف بعض اعضاء ظاہر ہو ئے تھے تو مارنے وا لے کے عا قلہ پر مرد کی دیت کا بیسواں حصہ یعنی پانچ سو درہم ایک سا ل میں واجب الاداہوں گے ساقط شدہ بچہ مذکر ہو یا مونث اور ماں مسلمہ ہو یا کتابیہ یا مجوسیہ ،سب کا ایک ہی حکم ہے ۔''(بہار شریعت، حصہ۱۸،ص۶۷۔۶۶، مکتبہ رضویہ)
Flag Counter