Brailvi Books

نیکیوں کی جزائیں اور گناہوں کی سزائیں
79 - 133
عذاب دوں گاجس نے ناحق کسی جان کو اَذیت دی ہوگی اور اگر مَیں کسی ظالم سے مظلوم کا پورا پورا بدلہ نہ دلاؤں تو مَیں خود بے جا کرنے والاٹھہروں گا۔''

    پھر اللہ عزوجل فرمائے گا:''مَیں ہی بدلہ دینے والابادشاہ ہوں ۔میری عزت وجلال کی قسم! آج کے دن کسی پر ظلم نہ کروں گااور آج کے دن کوئی ظالم مجھ سے نہ بچ سکے گااگرچہ ایک طمانچہ ہو یاہاتھ کی مار ہویاہاتھ کو مروڑا ہو اورمَیں سینگ والی بکری سے بغیر سینگ والی بکری کو بھی بدلہ دلاؤں گااور لکڑی سے ضرورپوچھوں گاکہ تُو نے لکڑی کو خراش کیوں لگا ئی؟ اور پتھر سے ضرور پو چھوں گا کہ تُو نے پتھر کو تکلیف کیوں دی؟ اور وہ شخص کہ جس پر مظلوم کاحق ہے اس وقت تک جنت میں داخل نہ ہوگاجب تک کہ اپنی نیکیوں سے اس کاحق ادانہ کردے اور اگراس کے پاس نیکیاں نہ ہوں گی تو مظلوم کے گناہوں کابوجھ ا س کے سر ڈال کر جہنم میں ڈال دیاجائے گا۔''

(۴)۔۔۔۔۔۔اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے:''سب سے بڑا  گناہ اللہ عزوجل کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا اور کسی جان کوناحق قتل کرناہے اور جیسے میں ،مشرک کی شفاعت نہیں کروں گااسی طرح قتلِ ناحق کرنے والے کی بھی شفاعت نہیں کروں گااورجس طرح مشرک جہنم میں ہمیشہ رہے گااسی طرح قاتل بھی جہنم میں رہے گااور جس طرح اللہ عزوجل مشرکین پر سخت غضب فرماتاہے اسی طرح قاتل پربھی غضبِ شدید فرماتاہے اور جس طرح قیامت کے دن مشرک پر لعنت فرمائے گااسی طرح قاتل پربھی لعنت فرمائے گا اور جب قاتل پر اللہ تبارک وتعالیٰ کی لعنت پڑے گی تو وہ جہنم کے مختلف طبقات پر قتل کیا جاتارہے گایہاں تک کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں دھنس جائے گااور اللہ تبارک وتعالیٰ نے جس طرح مشرکین کے لئے عذابِ عظیم تیار کررکھاہے اسی طرح قاتل کے لئے