ہیں جس کاانہیں حکم دیاجاتا ہے ۔فرشتے اس عورت کی گردن میں طوق اور زنجیریں ڈال کر منہ کے بل گھسیٹتے ہوئے جہنم کی طرف لے جائيں گے اور حضرت سیدنامالک علیہ السلام اُس کو ''جُبُّ الْاَحْزَان''میں پھینک دیں گے۔ یہ آگ سے بھرا ایک گہراکنواں ہے اس آگ کانام'' نَارُ الۤابَار''ہے۔ جب جہنم سرد ہونے پر آتا ہے تواس کنوئیں کا منہ کھول دیاجاتاہے، جہنم اس کی حرارت سے پھر بھڑکنے لگتا ہے۔ اس میں درندے ،بھیڑیئے،سانپ اور بچھو ہیں جوجہنمیوں کوکاٹتے اور ڈستے ہيں اور اس میں عذاب کے فرشتے ہیں، جن کے ہاتھوں میں آگ کے نیزے ہیں جس سے وہ قاتلوں کو گھائل کرتے رہیں گے، اس عورت کو اس گڑھے میں پچاس ہزار سال تک عذاب دیاجاتارہے گایہاں تک کہ اللہ عزوجل اس کے بارے میں جو چاہے فیصلہ فرمادے ۔''
ہم اللہ عزوجل کے غضب اور عذاب سے اُس کی پناہ مانگتے ہیں ۔
(۳)۔۔۔۔۔۔تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِعظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانيت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:''اللہ عزوجل کے نزدیک سب سے بڑا گناہ اس جان کوقتل کرناہے جس کے قتلِ ناحق کو اللہ عزوجل نے حرام فرمادیاہے اور کسی جان کو ناحق اَذیت دیناحلال نہیں (پھر مثال بیان فرمائی ) اگرچہ چڑیا ہی ہو کہ اگر کوئی شخص اس سے کھیلا یہاں تک کہ وہ مرگئی اوراسے بغیر حاجت کے ذبح بھی نہ کیا تو وہ قیامت کے دن کانوں کو پھاڑ دینے والی کڑک کی مثل آواز سے بارگاہ الٰہی عزوجل میں عرض گزار ہوگی :
اے میرے اللہ عزوجل! اس سے پوچھ کہ اس نے بلاوجہ مجھے اَذیت کیوں دی اور مجھے قتل کیوں کیاتھا؟اللہ تبارک وتعالیٰ فرمائے گا:''مجھے میری عزت وجلال کی قسم! مَیں تیرا حق ضرور دلاؤں گااور سن لو! کوئی ظالم مجھ سے نہ بچ سکے گا،مَیں ہر اس شخص کو