| نیکیوں کی جزائیں اور گناہوں کی سزائیں |
سے تارکول سے بھی زیادہ سیاہ خون بہے گاپھر وہ جیسا تھا ویساہی ہوجائے گاپھر ذبح کیاجائے گا،یہ سزا اس کو ہمیشہ ہمیشہ دی جائے گی اور قاتلوں کو آگ کے کنوؤں میں قید کیاجائے گاوہ اُن میں ہمیشہ رہیں گے۔''
(ہم اس گناہ و سزاسے اللہ عزوجل کی پناہ مانگتے ہیں)
اسی طرح اس عورت کو سزادی جائے گی جو اپنے پیٹ کے بچے کو ساقط کردے (یعنی گِرادے )۔
(۲)اللہ عزوجل ارشاد فرماتاہے :وَ اِذَا الْمَوْءٗدَۃُ سُئِلَتْ ۪ۙ﴿۸﴾ بِاَیِّ ذَنۡۢبٍ قُتِلَتْ ۚ﴿۹﴾
(پ ۳۰،تکویر:۸،۹)
ترجمہ کنز ا لا یمان:اورجب زندہ دبائی ہوئی سے پوچھاجائے کس خطاپر ماری گئی ۔ (۲)۔۔۔۔۔۔سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے : ''مَطْرُوْح (یعنی گِرایا ہوا بچہ) قیامت کے دن آئے گااس کی آواز بجلی کی کڑک کی مثل ہوگی وہ فریاد کریگا: '' مَیں مظلوم ہوں۔''پھر وہ اپنی ماں کولے کر آئے گا اور اللہ عزوجل کی بارگاہ میں عرض کریگا:''اے میرے رب عزوجل! تُو اس سے پوچھ اس نے مجھے کیوں قتل کیاتھا؟'' اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی ماں سے فرمائے گا:''تُونے اس کوکیوں قتل کیا تھا، کیاتوُیہ سمجھتی تھی کہ مَیں اسے رزق نہیں دوں گا؟بے شک مَیں نے کسی بھی جان کا قتلِ ناحق حرام کر دیاہے۔''(پھر فرشتوں سے فرمائے گا)اے میرے فرشتو!اس کو(دارغۂ جہنم) حضرت سیدنامالک علیہ السلام کے سپرد کردو تاکہ وہ اسے ''جُبُّ الْاَحْزَان''میں قید کر ديں۔''سخت مضبوط فرشتے اس کو پکڑلیں گے کیونکہ فرشتے اللہ عزوجل کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے یہ تو وہی کرتے