Brailvi Books

نیکیوں کی جزائیں اور گناہوں کی سزائیں
76 - 133
آٹھواں باب:قاتل اور قطع رحمی کرنے والے کی سزا
(۱)اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا:
وَمَنۡ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَہَنَّمُ خَالِدًا فِیۡہَا وَغَضِبَ اللہُ عَلَیۡہِ وَلَعَنَہٗ وَاَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِیۡمًا ﴿۹۳﴾   (پ5،النساء:93)
ترجمہ کنزالایمان:اور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کابدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیااور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھابڑاعذاب ۔
قتلِ ناحق کی مذمت پراَحادیث مبارکہ:
(۱)۔۔۔۔۔۔ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے: ''سب گناہوں سے بڑاگناہ کسی کو ناحق قتل کرناہے۔ جس نے چھری سے خود کشی کی ملائکہ جہنم کی وادیوں میں اس کوہمیشہ ہمیشہ وہ چھری گھونپتے رہیں گے،وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گااور میری شفاعت سے مایوس رہے گااوراگراس نے بلند جگہ سے اپنے آپ کو گراکر خود کشی کی ہوگی تو فرشتے بھی ہمیشہ ہمیشہ اس کو جہنم کی وادیوں میں بلند چوٹی سے گراتے رہیں گے اورقتل کرنے والوں کو آگ کے کنوؤں میں قید کیا جائے گااوراگر رسی سے لٹک کر خود کشی کی ہو گی تو ہمیشہ کے لئے اللہ عزوجل کی رحمت سے مایوس آگ کی شاخوں میں لٹکا رہے گا۔ اگرکوئی کسی جان کوناحق قتل کرے تو یہ کھلی گمراہی ہے فرشتے اس کو آگ کی چھریوں سے ذبح کرتے رہیں گے جب بھی وہ اس کو ذبح کریں گے تو اس کے حلق
Flag Counter