اورباقی سَتّر (70)لعنتیں زکوٰۃ ادانہ کرنے والوں پر نازل ہوتی ہیں۔ ہر وہ مال جس کی زکوٰۃ ادا کی جاتی ہے، اس کااداکرنے والااللہ عزوجل کاحبیب بن جاتاہے اورجب وہ مر جاتاہے اور مال ورثاء کے قبضہ میں چلاجاتاہے، اب خواہ ورثا ء اس مال کی زکوٰۃ اداکریں یانہ کریں،ملائکہ اس مرنے والے کے لئے قیامت تک نیکیاں لکھتے رہتے ہیں اور وہ عذابِ قبر اور عذابِ جہنم سے نجات پاکر جنت میں داخل ہوگا،اور ہر وہ مال جس کی زکوٰۃ ادانہ کی جائے وہ مال اور اس کامالک خبیث ہیں اور اس کا گناہ قیامت تک صاحبِ مال کو ہوتارہے گااگرچہ وہ مال ایسے ورثاء کے پاس چلاجائے جو اس کی زکوٰۃ ادا کریں ۔
اور جوبند ہ اپنے مال کی زکوٰۃ خوش دلی سے اداکرتاہے تو وہ مال قیامت کے دن نور کاہار بن کر اس کی گردن میں آجائے گااور وہ نور مؤمنین پر اس قدرروشنی کریگاکہ وہ اس کی روشنی میں پُل صراط سے گزر کر جنت میں داخل ہوجائیں گے اور جو کوئی اپنے مال کی زکوٰۃ ادانہیں کرتاتو وہ مال آگ کاایساطوق بن کر اس (یعنی صاحبِ مال)کی گردن میں آپڑے گاکہ اگر اسے دنیامیں رکھ دیاجائے تو ساری دنیاجل کر راکھ ہوجائے ،پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں اور سمندر خشک ہوجائیں ۔''
ہم اللہ عزوجل کی ناراضگی سے اُس کی پناہ مانگتے ہیں اوراللہ عزوجل سے قبولیت، مغفرت اورجہنم سے نجات کاسوال کرتے ہیں۔