Brailvi Books

نیکیوں کی جزائیں اور گناہوں کی سزائیں
74 - 133
 آپ علیہ السلام نے فرمایا: ''ہاں !یہ مؤمن نوجوان مجھ سے محبت کرتاہے اور یہ اس وقت تک اپنے گھر میں داخل ہوناپسند نہیں کرتاجب تک مجھے دیکھ نہ لے اورسلام نہ کرلے۔''حضرت ملک الموت علیہ السلام نے عرض کی:اے داؤدعلیہ السلام! اس کی عمر کے صرف چھ دن باقی رہ گئے ہیں۔''اس بات پرحضرت سیدناداؤد علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام بہت غمگین ہوئے ۔ مگر اس دن کے سات ماہ بعدجب اس نوجوان کوملے تووہ ابھی تک زندہ تھا۔

    حضرت ملک الموت علیہ السلام جب دوبارہ حضرت سیدناداؤدعلی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ علیہ السلام نے ان سے فرمایا:''تم نے کہا تھاکہ اس کی عمر کے صرف چھ دن باقی ہیں؟''انہوں نے عرض کی:جی ہاں ،لیکن جب چھ دن گزرے اور میں نے اس کی روح قبض کرنے کے لئے ہاتھ بڑھایاتو اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا:''اے ملک الموت!میرے فلاں بندے کو چھوڑ دے اس لئے کہ جب یہ (حضرت) داؤد علیہ السلام کے یہاں سے نکلاتھاتو اس نے ایک لاچار ومحتاج فقیر کو دیکھاتو اسے اپنی زکوٰۃ میں سے کچھ مال دے دیا،اس فقیر نے خوش ہوکر اس کے لئے لمبی عمر کی دعاکی تھی لہذامَیں نے اُس سے راضی ہوکر ان چھ دنوں کو ساٹھ(60)سال میں بدل دیااور اس پر مزید دس (10)سال اوربڑھادیئے ہیں تم اس کی روح اس مدت کے پورا ہونے تک قبض نہ کرنااور مَیں نے لکھ دیاہے کہ یہ نوجوان جنت میں(حضرت) داؤدعلیہ السلام کارفیق ہوگا۔''

پاکی ہے اسے جو کریم ،بہت زیادہ دینے والاہے۔

(۶)۔۔۔۔۔۔ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌلِّلْعٰلَمِیْن صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کافرمانِ ذیشان ہے:''ہر دن آسمان سے بَہتّر(72) لعنتیں نازل ہوتی ہیں ان میں سے ایک یہود پر دوسری نصاریٰ پر