ارشادفرمایا:''وہ جواپنے اہل کی طرف سے بدکاری کو جاننے کے باوجود خاموش رہے۔''
(۵)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کافرمان ہے :''جس نے اپنے مال کی پوری پوری زکوٰۃ خوش دلی سے اداکی تو آسمانِ دنیا میں اس کانام کَرِیْم، دوسرے آسمان میں جَوَّاد، تیسرے میں مُطِیْع، چوتھے میں سَخِی،پانچویں میں مَقْبُوْل،چھٹے میں مَحْفُوْظ، ساتویں میں مَغْفُوْریعنی جس کے گناہ بخش دیئے گئے اور عرش پر اس کانام حَبِیْبُ اللہ(یعنی اللہ عزوجل کادوست) رکھاجاتاہے ۔
اور جس نے اپنے مال کی زکوۃ ادانہ کی تو آسمانِ دنیا میں اس کانام بَخِیْل(یعنی کنجوس)،دوسرے آسمان میں شَحِیْح(یعنی انتہائی حریص)،تیسرے میں مُمْسِک (یعنی صدقہ روکنے والا)،چوتھے میں مَفْتُوْن (یعنی فتنے میں مبتلا) ،پانچویں میں عَاصِیْ (یعنی نافرمان)،چھٹے میں مَنُوْع یعنی جس کے لئے نہ مال میں برکت ہو نہ
ہی نیکی سے کچھ حصہ ہواور ساتویں آسمان میں اس کانام مَطْرُوْد(یعنی ٹھکرایاہوا) رکھا جاتا ہے اور اس کی نماز بھی مردود ہے کہ مقبول نہ ہوگی بلکہ اس کے منہ پر ماردی جائے گی ۔''