Brailvi Books

نیکیوں کی جزائیں اور گناہوں کی سزائیں
72 - 133
جہالت کی وجہ سے زکوٰۃ ادانہیں کرتاتھامیرے پاس کافی بھیڑ،بکریاں تھیں مَیں جن کی زکوٰۃ ادانہ کرتاتھا۔ایک دن کسی فقیر نے مجھ سے ضرورت وحاجت کی شکایت کی تو میں نے اسے ایک مینڈھادے دیا،اس رات جب میں سویاتوخواب میں دیکھاکہ میری تمام بھیڑ،بکریاں میری طرف آکر مجھے سینگوں سے ماررہی ہیں اور مَیں رورہا ہوں اور بھاگ بھی نہیں سکتااورنہ وہاں کسی مدد کرنے والے کوپاتاہوں اتنے میں و ہی مینڈھا آگیاجسے میں نے فقیر پر صد قہ کیاتھاوہ ان کو مجھ سے ہٹانے لگا جب بھی اس ریوڑ میں سے کوئی مینڈھامجھے سینگ مارنے کے لئے بڑھتاتووہ مینڈھا سامنے کھڑا ہو جاتااوراسے سینگ مار مار کرمجھ سے دُور کردیتالیکن چونکہ وہ زیادہ تھے اور یہ اکیلا، اس لئے وہ اس پر غالب آ جاتے قریب تھاکہ وہ مجھے ہلاک کردیتے اسی حالت میں میری آنکھ کھل گئی اور خوف سے میرا دل ٹکڑے ٹکڑے ہواجارہاتھا مَیں نے اسی وقت عزم کرلیاکہ اللہ عزوجل کی قسم! مَیں ضرور اس صدقہ کئے ہو ئے مینڈھے میں اضافہ کروں گا۔چنانچہ مَیں نے اپنے جانوروں میں سے دو تہائی صدقہ کردیااور زکوٰۃ ادانہ کرنے سے توبہ کرلی اور بے شک میں نے صدقہ نہ کی ہوئی بکریوں کی اپنے ساتھ عداوت اور صدقہ کی ہوئی بکریوں کااپنے ساتھ عجیب معاملہ دیکھا ۔'' 

(۴)۔۔۔۔۔۔نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عبرت نشان ہے :''جنت کے دروازے پر لکھاہواہے تُوبخیل،زکوٰۃ ادانہ کرنے والے اور دیّوث پر حرام ہے ۔''صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی : '' یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم !دیّوث کون ہوتاہے ؟آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے