کانپ اٹھیں گے پھر وہ اژدھااس کے ہاتھ کوکاٹ کر کھاتارہے گااور وہ ہاتھ بھی دوبارہ آتارہے گایہاں تک کہ وہ کٹے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ اپنے رب عزوجل کی بارگاہ میں کھڑا ہوگاتو اللہ عزوجل اس سے سختی سے حساب لے گاپھر اس کو جہنم کا حکم سنا دیا جائے گاوہ اژدھے سے پوچھے گا:''تُو کون ہے ؟''وہ جواب دے گا:''مَیں تیراوہ مال ہوں جس کی زکوٰۃ اداکرنے میں تُو بخل کیاکرتاتھاتو آج مَیں تیرا دشمن ہوں ، مَیں تجھے ہمیشہ عذاب دیتارہوں گایہاں تک کہ اللہ عزوجل تجھے معاف کردے اور فقراء (اپنے حق کے معاملہ میں)تجھ سے چشم پوشی کر لیں پھر اس کو سر کے بل اوندھاکرکے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔''
(۳)۔۔۔۔۔۔حضورنبئ پاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے:''اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میر ی جان ہے !جو بھی بکریوں ،گايوں اور اونٹو ں کامالک بنااور اس نے ان کی زکوٰۃ ادانہ کی تو قیامت کے دن وہ اموال جیسے دنیامیں تھے اس سے زیادہ طاقتور اور قوی ہوکر آئیں گے ان کے سینگ آگ کے ہوں گے وہ اپنے(زکوٰۃ ادانہ کرنے والے)مالک کو اپنے سینگوں سے ٹکریں ماریں گے اور اپنے ناخنوں سے نوچیں گے یہاں تک کہ اس کاپیٹ چاک کرڈالیں گے اور اس کی پیٹھ چھیل دیں گے وہ فریاد کریگامگرکوئی اس کی فریاد کو نہ پہنچے گاپھر وہ مال درندوں اور بھیڑیوں کی شکل میں اسے جہنم میں عذاب دے گا ۔ ' '