کیاہوگااور اللہ عزوجل کو ناراض کر نے والے الفاظ نہ بول کراس سے جنگ نہ کی ہوگی تو وہ بچہ (اپنے والدکی مغفرت) کے لئے جھگڑے گااور اس کو سیراب کریگا۔
بے شک مسلمانوں کے تمام بچے حوض کے اِرد گرد حوروغلماں کے ساتھ ہوں گے ان پرریشم کے جبِّے اور نور کے رومال ہوں گے ان کے ہاتھوں میں چاندی کی صراحیاں اور سونے کے پیالے ہوں گے اور وہ اپنے والدین کو سیراب کریں گے ،مگر وہ شخص جس نے اپنے بچوں کے مرجانے پر اللہ عزوجل سے شکوہ وشکایت کی ہو گی تو اللہ عزوجل اس کے بچوں کواسے سیراب کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔''
ایک دوسری حدیث مبارکہ میں ہے: ''مسلمانوں کے بچے قیامت کے دن موقف(یعنی بارگاہِ الٰہی عزوجل) میں اکٹھے ہوں گے اس وقت اللہ عزوجل فرشتوں سے فرمائے گا:'' ان کو جنت میں لے جاؤ ۔''جب وہ جنت کے دروازے پر کھڑے ہوں گے تو خازنِ جنت حضرت سیدنا رضوان علیہ السلام فرمائیں گے: ''مرحبا!خوش آمدید! اے مسلمانوں کے بچو!تم سب جنت میں داخل ہوجاؤ تم پر کوئی حساب نہیں ۔''وہ پوچھیں گے:''ہمارے ماں باپ کہاں ہیں ؟''خازنِ جنت فرمائیں گے: ''تمہارے والدین تمہاری طرح نہیں ہیں اس لئے کہ ان پرگناہ ،مؤاخذے اور برائیاں ہیں، ان سے ان افعال کاحساب ومؤاخذہ ہوگا۔''تووہ بچے کہیں گے :''انہوں نے تو ہمارے مرجانے پر صبرکیاتھاتاکہ آج کے دن انہیں اَجروثواب عطاکیاجائے ۔'' خازنِ جنت اس پر انہیں کچھ جواب نہ دیں گے ،تو وہ جنت کے دروازے پر کھڑے ہوکر ایک چیخ ماریں گے، تو اللہ عزوجل سب کچھ جاننے کے باوجوداِسْتِفْسَارفرمائے گا:''یہ چیخ کیسی ہے ؟'' تو ملائکہ عرض کریں گے : ''اے ہمارے رب عزوجل !یہ مسلمانوں کے بچے کہتے