کے لئے میرے عرش کے نیچے سونے کاگھر بناؤاوراس کانام بَیْتُ الصَّبْر رکھو۔''اور ایک دوسری حدیث میں ہے :''اس گھرکانام بَیْتُ الْحَمْد رکھو۔''
(۱۸)۔۔۔۔۔۔حُسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبرعزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے : ''جس نے اپنے ایک بچے کے مرجانے پر صبر کیا اللہ عزوجل اس کے لئے اس کے نامهٔ اعمال میں اُحد پہاڑ کے وزن کے برابر اَجر لکھ دیتاہے اورجس نے دو بچوں کے مرجانے پر صبر کیاتواللہ عزوجل(قیامت میں ) اسے ایسانور عطافرمائے گاجو اُس کے آگے آگے ہوگا اورمحشر کی ظلمت وتاریکی میں اس کے لئے روشنی کریگا اورجس نے اپنے تین بچوں کے مرجانے پر صبر کیاتو جہنم کو عبور کرتے وقت اِس کے لئے اُس کے دروازے بند کر دئيے جائیں گے اورجس نے اپنی ایک آنکھ کے ضائع ہونے پر صبر کیا تووہ شخص اللہ عزوجل کادیدار سب سے پہلے کریگااور اللہ عزوجل نابینا ؤں کو خلعتِ خاص سے نوازے گااور تمام مصیبت زدوں سے پہلے ان کے لئے جھنڈے لہرائے جائیں گے اور جس نے اپنی دونوں آنکھوں کے ضائع ہونے پر صبرکیاہوگا اللہ عزوجل اس کے لئے عرش کے نیچے گھر بنائے گااوراس کے لئے ایسی بادشاہت ہوگی جس کی کوئی تعریف نہیں کرسکتا۔
اور جو نمازکے اہتمام کے لئے وضووغسل سے نہ گھبرایا اللہ عزوجل اس کے لئے اس کے جسم کے ہر بال کے عوض ایک نیکی لکھ دے گااور اللہ عزوجل اِس وضومیں ٹپکنے والے ہر قطرے سے ایک فرشتہ پیدافرماتاہے جو قیامت تک اُس کی تسبیح کرتا رہے گااور اس کا