Brailvi Books

نیکیوں کی جزائیں اور گناہوں کی سزائیں
63 - 133
گے: ''کیایہ شہدا اور انبیا ء کرام علیہم السلام ہیں؟''فرشتے کہیں گے: ''اللہ عزوجل کی قسم !یہ شہدا ء ہیں نہ انبیا ء کرام علیہم السلام بلکہ یہ توعام لوگ ہیں جنہوں نے دنیاکے مصائب پر صبر کیااورآج کے دن نجات پاگئے۔''

    لوگ تمناکریں گے :''کاش!ہم بھی مصائب وآلام کی سختیوں میں مبتلا ہوئے ہوتے اور ہمارے گوشت قینچیوں سے کاٹے جاتے تاکہ ہمارے لئے بھی ان کے ساتھ حصہ ہوتا۔''پھر جب وہ (صابر)لوگ جنت کے پاس پہنچ کر اس کادروازہ کھٹکھٹا ئیں گے تو(جنت پر مقررفرشتے حضرت سیدنا)رضوان علیہ السلام آکر پوچھيں گے: ''یہ کون ہیں؟فرشتے (حضرت سیدنا)رضوان علیہ السلام سے کہیں گے : ''دروازہ کھولو۔'' حضرت سیدنارضوان علیہ السلام اِستِفسار کريں گے :''ان کاحساب کس وقت ہوا،انہوں نے کب نجات پائی حالانکہ ابھی تو چندلوگ ہی قبروں سے اُٹھے ہیں اور ابھی تک تو اللہ عزوجل نے نامهٔ اعمال بھی نہیں کھلوائے اور نہ ہی میزان رکھاہے ؟''ملائکہ کہیں گے :'' یہ صبر کرنے والے ہيں ان پر حساب نہیں،اے رضوان !ان کے لئے جنت کادروازہ کھول دو تاکہ یہ چین وسکون کے ساتھ اپنے مَحلاَّت میں بیٹھیں ۔'' تب (حضرت سیدنا) رضوان علیہ السلام ان کے لئے جنت کے دروازے کھولیں گے، تووہ اپنے جنتی گھروں میں داخل ہوجائیں گے ،خُدَّام کلمہ پڑھتے اور تکبیر کہتے ہوئے خوشی ومسَّرت سے ان کا استقبال کریں گے،پھر وہ پانچ سو(500) سال تک جنت کے بلند درجات پر فائز رہیں گے اور مخلوق کے حساب سے فارغ ہونے تک ان کا مشاہدہ کرتے رہیں گے