پر بیٹھااللہ عزوجل کی تسبیح کرتاہوگااور کہتاہوگا:''اے اللہ عزوجل کے ولی !جنت کے پھلوں سے کھاؤاور اس کی نہروں سے پیؤکہ یہ سب اپنی ہی ملکیت ہے'' ۔
پھر اللہ عزوجل کی قدرت سے وہ پرندہ دسترخوان پر پیش ہوجائے گا اور مختلف اقسام میں اس کاکچھ حصہ بھناہوا،کچھ تلاہوا،کچھ میٹھااور کچھ نمکین وترش پکا ہوا ہو گا، مؤمنین مردوعورت اور حور عین اس میں سے کھائیں گے یہاں تک کہ اس کی ہڈیاں باقی رہ جائیں گی پھروہ پرندہ اللہ عزوجل کی قدر ت سے پہلے کی طرح ( زندہ)ہوجائے گا اور ٹہنی پر بیٹھ کر اللہ عزوجل کی تسبیح بیان کرناشروع کردے گااور وہ حُلّے(یعنی لباس)اللہ عزوجل کے اولیاء کے اشتیاق میں ہیں کہ کب وہ ان کو پہنیں گے او ربے شک محلات اورتمام جواہر اسی ذات کے بنائے ہوئے ہیں جوکسی شے کوفرماتاہے :''کُنْ یعنی ہوجا۔'' تووہ ہوجاتی ہے ،ان محلات میں کوئی جوڑ توڑ نہ ہو گا ۔
مؤمن ستر(70)سال تک ان(محلات) میں عیش وعشرت کی زندگی بسر کریگا،ایک محل سے دوسرے محل، ایک باغ سے دوسرے باغ مزے کرتا، گھومتا رہے گا۔جنت الفردوس کے گھوڑے سرخ یاقوت کے ہوں گے، ان کی زینیں سبز زمرد کی، پَر سونے کے اور رانیں چاندی کی ہوں گی اور جنتی گھوڑے کے دو ہاتھ اور دو پاؤں ہوں گے وہ کہے گا:'' اے اللہ عزوجل کے ولی !مجھ پر سوار ہوجائیے۔'' اگر جنتی چلنے کاارادہ کریگاتووہ چلے گااوراُڑنے کاارادہ کریگاتووہ اُڑنے لگے گااسی طرح اُونٹنیاں او راعلیٰ نسل کے سفید اونٹ بھی ہوں گے جب مؤمن ان گھوڑوں میں سے کسی پر سوار ہوگاتو وہ باقی گھوڑوں پر فخر کریگااورمومن اپنی بیویوں اور خادماؤں میں سے جسے چاہے گااپنے ساتھ سوار کریگا،وہ گھوڑا انہیں سیر کراتے ہوئے ایک