سے) غافل دیکھ کر غمگین ہوتے ہیں ۔
(آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مزیدارشادفرمایا:)''پھر جنتیوں کوان کے باغات سے پھل پیش کئے جائیں گے ،ایک اور فرشتہ داخل ہوگااس کے ساتھ ایک گٹھڑی ہوگی جس میں سونے کے نقش ونگار والے حُلّے ہوں گے، جن پر ان کے عظیم نام لکھے ہوئے ہوں گے وہ فرشتہ کہے گا:''اے اللہ عزوجل کے ولی !ان حُلّوں کودیکھئے اگر ان کی صورت پسند ہے تو ٹھیک ورنہ میں اسے آپ کی پسندیدہ صورت میں تبدیل کردوں گا ۔''
پھر دوسرا فرشتہ اپنے ساتھ مختلف قسم کے زیورات لے کر حاضرِ خدمت ہوگا دنیا کے زیورات تو شورپیداکرتے ہیں لیکن آخرت کے زیورات ایسی آواز میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کریں گے جس سے سامعین کو راحت وخوشی ہوگی (ان نعمتوں پر ) مومن اللہ عزوجل کے لئے سجدہ شکر بجالائے گا،پھر وہ فرشتے جو نمازِ فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کے ہديے لے کر آئے ہوں گے وہ اسے سلام کرتے ہوئے ہدیے پیش کریں گے ،جب فرشتے اس کوہديے دے کر فارغ ہوں گے تو بندهٔ مومن تمام خالی برتنوں کوجمع کرکے فرشتوں کے حوالے کریگا،یہ دیکھ کرفرشتے مسکراتے ہوئے اس سے کہیں گے، ''تم ابھی تک خود کودنیامیں گمان کررہے ہوکہ ہدیہ کھاکر(یالے کر)برتن صاحب ہدیہ کودے دیاکرتے تھے، دنیامیں تو ہدیہ دینے والے کو ان برتنوں کی قلّت کی وجہ سے ان کی محتاجی ہوتی تھی،اور یہ برتن ربِّ عظیم عزوجل کی طرف سے ہیں جو غنی اور عزت وکرم والاہے اس کی ملکیت میں کوئی کمی نہیں آتی نہ اس کے خزانے فناہونے والے ہیں اور وہ ایسی ذات ہے جوکسی شے کوفرماتاہے : ''کُنْ یعنی ہوجا۔''تووہ ہو جاتی ہے تو یہ برتن اورجوکچھ اس میں ہے سب تمہارے لئے ہے کیونکہ تم دنیا میں